خانقاہ میں آتشزدگی، کشمیر میں زندگی مفلوج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام نے ابتدائی تفتیش کا حوالہ دے کر کہا کہ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مشرق وسطیٰ کے ایک صوفی بزرگ سّید عبدالقادر جیلانی سے منسوب زیارت گاہ میں آتشزدگی کے خلاف منگل کو پوری وادی میں ہڑتال اور سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔

ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہلکی جھڑپوں کی خبریں بھی ہیں۔

اس دوران شمالی قصبہ سوپور میں نامعلوم افراد نے نیم فوجی سی آر پی ایف کی گاڑی پر گرینیڈ پھینکا جس کے نتیجہ میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار اور شاہراہ پر چل رہے میاں بیوی زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے چھ بجے سرینگر کے خانیار علاقہ میں واقع تین منزلہ خانقاہ میں آگ لگ گئی جو تیزی کے ساتھ پوری عمارت میں پھیل گئی۔

آگ بجھانے والی درجنوں گاڑیوں نے آگ پر قابو پانا چاہا تاہم تاریخی عمارت کو بچایا نہ جاسکا۔ آگ بجھانے کا عملہ اور مقامی لوگ بھی امدادی کارروائی میں مصروف رہے۔

اس واردات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن شہر میں کشیدگی پھیل گئی اور دن بھر مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائیوں میں تیس پولیس اہلکاروں سمیت اسّی افراد زخمی ہوگئے۔

حکام نے ابتدائی تفتیش کا حوالہ دے کر کہا کہ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے، تاہم معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

شیخ سّید عبدالقادر (1077-1186 ) شمالی ایران کے جیلان شہر کے رہنے والے تھے۔ وہ قادریہ سلسلہ کے بانی ہیں اور عراق کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انہوں نے اسلامی تبلیغ کی۔

شیخ عبدالقادر کے جانشین خواجہ سخی محمد شاہ پندرہویں صدی میں قادری سلسلہ کی تبلیغ کے حوالے سے کشمیر آئے اور یہاں شیخ صاحب کے پیروکاروں کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا۔ سرینگر کے خانیار اور سرائے بالا کے علاوہ کشمیر کے جن علاقوں میں شیخ عبدالقادر کے جانشینوں نے قیام کیا، وہاں ان کی یاد میں خانقاہیں تعمیر کی گئیں اور ان میں ان کے تبرکات ہیں جن کا دیدار مخصوص عرس کے روز ہوتا ہے۔

اٹھارہ سو اکہتّر میں مقامی رئیسوں ثناءاللہ شال اور خواجہ محی الدین نے شیخ عبدالقادر کی یاد میں خانیار کی یہ دلکش خانقاہ تعمیر کروائی تھی۔ پیر کے روز آگ کی نذر ہوئی خانقاہ میں ان کے کچھ تبرکات تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

دریں اثنا ثقافتی میراث کے تحفظ سے متعلق بھارتی ادارہ انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ ہیری ٹیج یا ’انٹاج‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اس حادثہ سے صرف گیارہ دن قبل جموں کشمیر حکومت کو ایسی ایک سو دس تاریخی خانقاہوں کی فہرست پیش کی گئی تھی جنہیں آگ یا دوسرے حادثات کا خطرہ لاحق ہے۔

’انٹاچ‘ کی کشمیر شاخ کے کنوینر سلیم بیگ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے وزراء اور حکام کو پاور پوائنٹ پیشکش کے ذریعہ سمجھایا کہ خالص لکڑی کی بنی زیارت گاہیں قدیم ہیں اور انہیں محفوظ کرنا ناگزیر ہے کیونکہ ان میں کبھی بھی آگ لگ سکتی ہے۔‘

اس دوران وزیرِ اعلیٰ جو منگل کو لندن کے دورے سے واپسی پر سرینگر پہنچے، نے اعلان کیا ہے کہ دستگیر صاحب کی زیارت گاہ کی ڈیجیٹل تصویر حاصل کرلی گئی ہے، اور اس مقام پر ویسی عمارت تعمیر کی جائے گی۔

اسی بارے میں