’ دنیا ہمارے ضبط کی تعریف کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چدامبرم کے مطابق پاکستان نے تفتیش کی معلومات کے تبادلے کی بات کہی ہے

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان کی جانب سے’ کسی نہ کسی قسم کی سرکاری اعانت حاصل تھی‘۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں سعودی عرب سےگرفتار کیے جانے والے بھارتی شہری سید ذبیح الدین عرف ابو جندل نے پوچھ گچھ کے دوران جو معلومت فراہم کی ہیں اس سے بھارت کے اس ُشبہہ کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ حملوں میں کسی پاکستانی سرکاری ادارے کا ہاتھ تھا۔

لیکن انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ کسی مخصوص ایجنسی کی طرف انگلی نہیں اٹھا رہے۔ بھارت نے حملوں کے فوراً بعد بھی یہ الزام عائد کیا تھا لیکن پاکستان کا موقف ہے کہ حملوں میں غیری سرکاری عناصر یا ’ نان سٹیٹ ایکٹرز‘ ملوث تھے۔

حملے کے لیے لشکر طیبہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور تنظیم سے وابستہ کئی افراد پر پاکستان میں مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔ بھارت کا مطالبہ ہے کہ حملوں کے سلسلے میں حافظ محمد سعید کے خلاف بھی کارروائی کی جائے لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کے خلاف شواہد موجود نہیں ہیں۔

ابو جندل کو اکیس جون کو دلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سےگرفتار کیا گیا تھا لیکن انکی گرفتاری کا اعلان پچیس جون کو کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ ابو جندل کی گرفتاری سے متعلق کوئی باقاعدہ بیان جاری کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں میڈیا میں شدت سے قیاس آرائی جا ری ہے کہ انہیں کن حالات میں گرفتار کیا گیا اور پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے تفتیش کاروں کو کیا معلومات فراہم کی ہے۔

پی چدمبرم نے کہا کہ جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ عام نہیں کی جائے گی لیکن ابو جندال کو’ ایک سال سے ٹریک (تعاقب) کیا جا رہا تھا، آخرکار ہم نے انہیں ڈھونڈ نکالا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ’دنیا ہمارے ضبط کی تعریف کر رہی ہے‘ اور اب پاکستان (دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے) دباؤ میں ہے‘۔

لیکن میڈیا میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ ابو جندال کو فرضی پاسپورٹ استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ کئی ماہ سے سعودی عرب میں قید تھے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے ان سے یہ درخواست کی ہے کہ ابو جندال سے ملنے والی معلومات پاکستان کو بھی فراہم کی جائیں۔

مسٹر چدمبرم کے مطابق ابو جندل نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حملوں کےدوران وہ کراچی میں قائم کنٹرول روم میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں موجود کچھ دیگر لوگوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔

بھارتی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ ابو جندال حملہ آوروں کے ’ہینڈلر‘ تھے اور حملوں کے دوران انہیں کراچی سے ہدایات دے رہے تھے۔ ان کی گرفتاری کو ممبئی پر حملوں کی سازش کا پردہ فاش کرنے میں امیر اجمل قصاب کی گرفتاری کے بعد دوسری سب سے بڑی کامیابی بتایا جا رہا ہے۔

ابو جندال فی الحال دلی پولیس کی تحویل میں ہیں جہاں ان سے سپیشل سیل اور قومی تفتیشی بیورو کے افسران پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ ممبئی کی پولیس نے بھی ان کی تحویل حاصل کرنے کے لیے دلی کی ایک عدالت سے رجوع کیا ہے۔

اسی بارے میں