’سونیاگاندھی وزیر اعظم بن سکتی تھیں‘

عبد الکلام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے سابق صدر عبدالکلام بی جے پی کی حمایت سے صدر منتخب ہوئے تھے

بھارت کے سابق صدر اے پی جے عبد الکلام نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں قائم اس نظریے کو توڑ دیا ہے کہ وہ سونیا گاندھی کے وزیر اعظم بننے کے خلاف تھے۔

انھوں نے کہا ہے ’اگر سونیا گاندھی نے خود وزیر اعظم بننے کا دعوی پیش کیا ہوتا تو میرے پاس انھیں وزیر اعظم منتخب کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

سونیاگاندھی وزیر اعظم بن سکتی تھیں

سونیا گاندھی کے حوالے سے عبدالکلام نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے پاس منفرد افراد ، اداروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئی ای میلز اور خطوط آئے تھے جن میں سونیا گاندھی کو وزیراعظم بنائے جانے کی مخالفت کی گئي تھی۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان ای میلز اور خطوط کو انھوں نے بغیر کسی تبصرے کے سرکاری ایجنسیوں کو ارسال کر دیا تھا۔

اے پی جے عبد الکلام نے یہ باتیں اپنی کتاب ’ونگز آف فائر‘ کے دوسرے حصے ’ٹرننگ پوائنٹس‘ میں کہی ہیں جو جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔

اس حوالے سے میڈیا میں کچھ تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں اور انھی میں سے ایک سونیا گاندھی کے وزیر اعظم بننے کے متعلق تذکرہ بھی ہے۔

عبدالکلام نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سنہ دو ہزار چار کے انتخابی نتائج کے بعد جب سونیا گاندھی ان سے ملنے آئیں تو ایوان صدر کی جانب سے انھیں وزیراعظم منتخب کیے جانے کے سلسلے میں خط تیار تھا۔

انہوں نے کہا جب اٹھارہ مئی سنہ دو ہزار چار کو وہ اپنے ساتھ منموہن سنگھ کو لے کر پہنچیں تو انھیں حیرت ہوئی۔

عبدالکلام لکھتے ہیں کہ اس کے بعد سونیا نے کہا کہ وہ منموہن سنگھ کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنا چاہیں گی۔ یہ میرے لیے حیرت کا باعث تھا جس کے بعد ایوان صدر کو از سر نو خط تیار کرنا پڑا۔

عبدالکلام کی مذکورہ وضاحت سے قبل یہ بات کہی جاتی تھی کہ سونیا گاندھی وزیراعظم تو بننا چاہتی تھیں لیکن اس وقت کے صدر عبدالکلام نے ان کے غیر ملکی ہونے کا معاملہ اٹھا کر یا بوفورس معاملے میں گاندھی خاندان کا نام ہونے کا حوالہ دے کرکہا تھا کہ انھیں آئینی مشورہ کرنا ہوگا جس کے بعد سونیا گاندھی نے منموہن سنگھ کا نام تجویز کیا۔

اس کے علاوہ عبد الکلام نے اپنے آنے والی کتاب میں جن اہم معاملوں کا ذکر کیا ہے ان میں سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد ان کے وہاں کے دورے کا بھی ذکر ہے۔

انگریزی کے اخبار دی ہندو میں شائع کتاب کے اقتباسات کے مطابق اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ان کے گجرات ریاست کے دورے سے مطمئن نہیں تھے۔

انھوں نے صدر عبدالکلام سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ اس وقت گجرات جانا ضروری سمجھتے ہیں؟

اس کے جواب میں انھوں نے اٹل بہاری واجپئی سے کہا تھا ’میں اسے ایک اہم کام سمجھتا ہوں تاکہ میں لوگوں کے دکھ دور کرنے میں کچھ کام آ سکوں، ساتھ ہی میں راحت فراہم کرنے کے امدادی کاموں میں تیزی بھی لا سکوں‘۔

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’وزارت اور افسر شاہی کی سطح پر انہیں صلاح دی گئی تھی کہ انھیں گجرات کا دورہ نہیں کرنا چاہیے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دائیں بازو کی جماعتوں نے سونیا گاندھی کے ‏غیر ملکی ہونے کی کافی تشہیر کی تھی۔

لیکن اس کے باوجود کلام نے سنہ دو ہزار دو میں اگست کے مہینے میں گجرات کا دورہ کیا اور اپنے اس دورے کے دوران انھوں نے بارہ مقامات کا سفر کیا جن میں تین پناہ گزین کیمپ اور نو فسادات سے متاثرہ علاقے تھے۔

انھوں نے لکھا ہے، 'چند ماہ قبل ریاست میں فسادات ہوئے تھے جن کے سبب ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بے ترتیب ہو چکی تھیں۔ یہ انتہائی اہم اور حساس کام تھا کیونکہ یہ عجیب حالات اور سیاسی طور پر سرگرم ماحول میں ہوا تھا'۔

ایک کیمپ کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے: 'جب میں نے ایک کیمپ کا دورہ کیا تو ایک چھ سال کا بچہ میرے پاس آیا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، جناب صدر صاحب مجھے میرے والدین چاہیے۔ میں بے زبان ہو گیا۔'

اسی بارے میں