آسام: سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد نوے پہنچ گئی

آخری وقت اشاعت:  منگل 3 جولائ 2012 ,‭ 14:38 GMT 19:38 PST

سیلاب سے زبردست جانی و مالی نقصان پہنچا ہے

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نوے تک پہنچ گئی ہے۔

ریاست کے گھنے جنگلات میں بڑی تعداد میں جنگلی جانور بھی مارے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال میں بہتری کا امکان ہے۔

آسام میں بھاری بارشوں کی وجہ سے دریائے برہم پتر میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور ریاست کا ایک بڑا حصہ زیر آب ہے۔ تقریباً بیس لاکھ لوگوں کو مجبوراً اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کو منتقل ہونا پڑا ہے لیکن سیلاب کی وجہ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا صحیح اندازہ پانی اترنے کے بعد ہی لگایا جا سکےگا۔

امداد کے کام کے لیے فوج کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں جو پانی میں گھرے ہوئے لوگوں تک کھانے کا سامان اور پینے کا پانی پہنچا رہے ہیں۔

لوگوں کو پانی سے نکالنے کے لیے فوج کشتیوں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی مارے گئے ہیں جبکہ سرکاری اہلکاروں کے مطابق ریاست کے وائلڈ لائف پارکس کا تقریباً دو تہائی حصہ سیلاب کی زد میں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ان محفوظ پناہ گاہوں میں بھی بہت سے جنگلی جانور ڈوب گئے ہیں۔

اگرچہ اس مرتبہ سیلاب کی شدت زیادہ ہے، لیکن آسام میں ہر سال برسات کے موسم میں تقریباً یہی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ کلیان رودرا دریاؤں کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلاب آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں برسات کے تین مہینوں میں بارش بہت شدت سے ہوتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صورتحال کو بہتر بنانے یا سیلاب کی شدت کو کم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے؟ کلیان رودرا کا کہنا ہے کہ سیلاب سے تو نہیں بچا جاسکتا لیکن جانی اور مالی نقصان کم کرنے کے لیے تدابیر ضرور کی جاسکتی ہیں۔

ان کے مطابق جان و مال کا نقصان کم کرنے کے لیے تعمیر کی بہتر ٹیکنالوجی، پیشگی وراننگ کا نظام انشورنس کی سہولت اور متاثرین کی دیکھ بھال کے بہتر انتظام پر توجہ دی جانی چاہیے۔

ریاست متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کرانے کے لیے سات سو ستر کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی کی اطلاعات دھیماجی ضلع سے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال میں کچھ بہتری آنے کا امکان ہے کیونکہ بارشوں کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔