’را‘ سےحقوق کی پامالیوں کی تفصیل طلب

Image caption بھارتی خفیہ ادارہ سکیورٹی کے نام پر معلومات دینے سے گریز کرتے رہے ہیں

بھارت کے مرکزی انفارمیشن کمیشن نے ملک کے خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کی اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے کہ خفیہ ایجنسی ہونے کے ناطے اسے معلومات فراہم کرنے میں استثنی حاصل ہے۔

انفارمیشن کمیشن نے را کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کے خلاف دائر کیےگئے بد عنوانی، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے تمام معاملات کی تفصیلات کمیشن کو فراہم کرے۔

را کو بدعنوانی، حقوق انسانی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے معاملات میں تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت مئی میں کی گئی تھی لکین گزشتہ ہفتے را نے انفارمیشن کمیشن میں اپنی ایک اپیل میں یہ دلیل دی تھی کہ چونکہ وہ ایک خفیہ ادارہ ہے اس لیے وہ معلومات حاصل کرنے کے حق ’آر ٹی آئی‘ کے قانون کے دائرے میں نہیں آتا ۔

ابھی تک سنٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر اور را کے متعلقہ اہلکار آر ٹی آئی قانون کی استثنی شقوں کا حوالہ دے کر کسی طرح کی تفصیلات دینے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

خفیہ ایجنسی را کابینہ کے سکریٹریٹ کے تحت آتی ہے۔ مرکزی انفارمیشن کمیشن ستیندر مشرا کے روبرو اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے را کے اہلکاروں نے کہا کہ را کی خفیہ نوعیت کے سبب جو معلومات ان سے طلب کی گئی ہیں وہ انہیں منکشف نہیں کر سکتے۔

را کا یہ بھی کہنا ہے کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے پس پردہ یہ خفیہ ادارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ایک بالواسطہ کوشش ہے۔ ان اہلکاروں نے کہا کہ را کے بارے میں کسی طرح کی معلومات نہیں دی جا سکتیں۔

لیکن انفارمیشن کمشنر نے تمام دلیلیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ ادارہ استثنی کا حوالہ دے کر ان معلومات کو روکنے کا مجاز نہیں ہے جس کا تعلق اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی سے نہیں ہے۔

کمیشن نے کہا کہ جو معلومات طلب کی گئی ہیں وہ واضح طور پر معلومات حاصل کرنے کے دائرے میں آتی ہیں۔ ’یہ ان کیسز کی تفصیلات سے متعلق ہے جو بدعنوانی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے میں ہے جو را کے اہلکاروں کے خلاف درج کیےگئے ہیں۔‘

انفارمیشن کمیشن نے کہا کہ یہ تینوں اقسام کے معاملات ان خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں جوآر ٹی آئی کے قانون میں شامل ہیں ۔ ’اس لیے ان سے متعلق کسی بھی طرح کی تفصیل کو منکشف کرنا ہوگا۔‘

کمیشن نے را کو ہدایت کی ہے کہ وہ دس دن کے اندر اس سے طلب کی گئیں تمام تفصیلات کمیشن کے روبرو پیش کرے۔

کمیشن نے را سے کہا ہے کہ وہ گزشتہ نو برس میں دائر کیےگئے تمام معاملات کی ایک فہرست تفصیل کے ساتھ پیش کرے۔ اس حکم میں کہا گیا ہے ’اس فہرست میں اہلکاروں کے نام، ان کے عہدے، کیس درج کرنے کی تاریخیں یا سال، ان پر لگائے گئے الزامات اور ان کیسز کی موجودہ صررتحال کے بارے میں تمام تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔‘

آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت را، این آئی اے، انٹیلیجنس بیورو، سی بی آ ئی اور کئی نیم فوجی فورسز سمیت مرکزی خفیہ اور سکیورٹی اداروں کو معلومات فراہم کرنے سے مستثنی رکھا گیا ہے۔ لیکن اس قانون میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ ان اداروں کو حقوق انسانی کی پامالیوں اور بدعنوانی کے معاملات میں معلومات فراہم کرنے سے استثنی حاصل نہیں ہے۔

خفیہ ایجنسیاں اور سکیورٹی فورسز قومی سلامتی اور رازداری ایکٹ کا حوالہ دے کر اکثر معلموات فراہم کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کے بعد بھی یہ ایجنسیاں کسی طرح کی معلومات دینے سے انکار کرتی رہی ہیں۔

حالیہ برسوں میں بعض سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمان اور سکیورٹی کے ماہرین کی جانب سے ان اداروں سے جوابدہی کے بارے میں سوال کیے جانے لگے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ استثنی اور جوابدہی کے مبہم عمل کے سبب ان اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی صحیح صورتحال بھی واضح نہیں ہو پاتی۔

حال میں انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک کے دوران یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں اور سکیورٹی کے اداروں کو جوابدہ بنانے کے لیے انہیں پارلیمانی کمیٹی کے دائرے میں لیا جائے۔

اسی بارے میں