کشمیر، توپ کےگولے داغنے کے خلاف مظاہرہ

Image caption کشمیر میں عوام فوجی موجودگی سے پریشان رہتے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں جمعرات کو ہزاروں مظاہرین نے بھارتی فوج کی اُس تربیت گاہ کا محاصرہ کرلیا جس میں فوجیوں کو بوفورز توپ چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں تیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے توپ کا ایک گولہ چھِل نامی بستی میں گرا جس کی وجہ سے پینتیس سالہ خاتون فاطمہ زخمی ہوگئیں۔ اس واقعہ کے بعد چھِل اور ملحقہ بستیوں کے باشندوں نے مظاہرہ کیا اور اُس وقت تربیت گاہ پر دھاوا بول دیا جہاں فوجی اہلکار توپ چلانے کی تربیت میں مصروف تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جب فوج کی تربیت گاہ کو گھیرنے کی کوشش کی تو فوجی اہلکاروں نے احتجاجی جلوس پر پتھراؤ کیا۔

اس تصادم میں تیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ مقامی پولیس افسر شبیر نواب نے مظاہرین سے کہا کہ فوج نے تربیت گاہ کو خالی کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر معمول کے حالات بحال ہوگئے۔

مقامی شہری مولوی مقبول نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام کی طرف سے تربیت گاہ خالی کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ مولوی مقبول کا کہنا ہے کہ اس تربیت گاہ میں گولے داغنے کا عمل پچھلے پچیس سال سے جاری ہے اور ہر سال کم از کم چار افراد اس میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ تربیت گاہ سے جب توپ کا گولہ پھینکا جاتا ہے تو پچاس ہزار نفوس پر مشتمل پورے علاقے کے مکان ہل جاتے ہیں۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ اُنیس سو ننانوے میں جب کارگِل پہاڑیوں پر مسلح دراندازوں نے قبضہ کیا تو بھاری تعداد میں بوفرس توپیں کشمیر لائی گئیں۔

مولوی مقبول کہتے ہیں: ’ہمارے مکانوں میں شگاف ہیں، راتوں کو اس شور سے نیند نہیں آتی۔ فائرنگ اور توپ کے شور سے حاملہ خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا رہتا ہے۔ درجنوں لوگ اپاہج ہوچکے ہیں کیونکہ توپ کے اکثر گولے پھٹے بغیر باغوں اور کھیتوں میں گرتے ہیں اور جب کوئی بعد میں ان کو چھوتا ہے تو وہ پھٹ جاتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ کشمیر کی بیشتر آبادی فوجی تنصیبات سے گھِری ہوئی ہے اور اکثر مقامات پر فوج نے وسیع اسلحہ خانے اور تربیت گاہیں قائم کرلی ہیں۔

چند سال قبل جنوبی کشمیر کے کُھندرو علاقہ میں فوجی اسلحہ خانہ میں آگ لگنے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے اور قریبی جنگلات کو بھی نقصان پہنچا۔

انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کہتے ہیں کہ صرف پونچھ ضلع میں ایسے آٹھ سو افراد ہیں جو فوج یا عسکریپت پسندوں کی طرف سے بچھائی گئیں بارودی سرنگیں پھٹ جانے کی وجہ سے اپاہج ہوگئے۔

اسی بارے میں