’بھارت کو مطلوب فصیح سعودی جیل میں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 9 جولائ 2012 ,‭ 10:35 GMT 15:35 PST
فصیح محمود

فصیح محمود بھارت کی ریاست بہار کے رہنے والے ہیں۔

بھارت کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم بھارتی شہری فصیح محمود سعودی عرب کی ایک جیل میں قید ہیں اور انھیں ملک واپس لانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں ایک مشترکہ بیان میں فصیح محمود کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی تھی اور ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ فصیح محمود کو بھارتی پولیس نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

فصیح کی اہلیہ نکہت پروین نے حکومت ہند پر الزام لگایا تھا کہ ان کے شوہر کو بھارتی ایجنسیوں نے تحویل میں لے رکھا ہے اور انہوں نے عدالت عظمی میں حبس بیجا کی ایک درحواست دائر کی تھی۔

اس کے جواب میں عدالت عظمٰی نے حکومت ہند کو دو ہفتے کی مہلت دی تھی کہ وہ ان کے شوہر کے بارے میں عدالت کو معلومات فراہم کرے۔

پیر کے روز اسی مقدمہ کی سماعت کے دوران حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فصیح محمود سعودی عرب کی جیل میں قید ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ بھارتی شہری ہیں تو پھر حکومت انہیں ملک واپس کیوں نہیں لاتی۔

اس کے جواب میں سرکاری وکیل نے کہا کہ چونکہ وہ کسی جرم کے سبب جیل میں ہیں اس لیے انہیں واپس لانا آسان کام نہیں اور حکومت اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

پینتیس سالہ فصیح محمود کا تعلق ریاست بہار سے ہے اور پیشہ کے اعتبار سے وہ انجینیئر ہیں۔ وہ سعودی عرب میں پانچ سال سے ملازمت کر رہے ہیں۔

ان کی اہلیہ نکہت پروین کے مطابق انہیں تیرہ مئی کو سعودی عرب کے جبیل شہر میں ان کے اپارٹمنٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جو اہلکار ان کے گھر پر آئے تھے ان میں دو بھارتی اہلکار بھی شامل تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ بعض معاملات میں ان سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں بھارت بھیجا جا رہا ہے۔

اس سے قبل مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سولسٹر جنرل گورو بینرجی نے کہا تھا کہ فصیح محمود بھارتی پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں حالانکہ ان کے خلاف مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

تیرہ مئی سے فصیح پراسرار طریقے سے لاپتہ ہیں لیکن ان کے بارے میں بھارتی اخبارات ایجنسیوں کے حوالے سے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کی طرح طرح کی خبریں شائع کرتے رہے ہیں۔

فصیح محمود کی اکیس سالہ اہلیہ نکہت پروین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے شوہر بے قصور ہیں اور یہ حقیقت اب عیاں ہونے لگی ہے۔ ’وزیر داخلہ کچھ کہتے ہیں، وزارت خارجہ کا بیان کچھ اور ہے اور ایک انڈر سیکریٹری نے کہا کہ وزارت کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے کہ فصیح کون ہے۔‘

فصیح کے بارے میں لاعلمی کے اظہار پر سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ یہ معاملہ بہت سنگین ہے اور اس نے حکومت سے جاننا چاہا کہ اگر وہ بھارتی پولیس کی حراست میں نہیں ہیں تو کس کی حراست میں ہیں۔

اس کے جواب میں ایڈیشنل سولسٹر جنرل نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے سعودی حکام سے رابطہ قائم کیا ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کی تفصیلات جلد ہی حاصل ہو جائیں گی۔

عدالت عظمٰی نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ سعودی حکام سے اپنی بات چیت کی تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کرے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔