’کشمیر کو آزاد اقتصادی خطہ قرار دیا جائے‘

لائن آف کنٹرول (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ہم تو کہتے ہیں تیس اشیاء پر پابندی عائد کی جائے لیکن پھر ان کے بغیر ہر چیز کی تجارت کی اجازت دی جائے‘

کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے ذریعے تجارت کرنے والے تاجروں نے منگل کے روز سات سو چالیس کلومیٹر طویل ایل او سی کو ’خونی لکیر‘ قرار دیا اور کہا کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر کے منقسم خطوں کے درمیان تجارتی اور تمدنی رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہیے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے تاجر انجمنوں اور پاکستانی کشمیر کے مظفرآباد، راولاکوٹ، حاجی را، بھمبر، میر پور، کوٹلی اور دوسرے مقامات سے آئے تاجروں نے نئی دلّی میں مقیم ایک این جی او کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔

کنٹرول لائن کے ذریعے تجارت کرنے والوں کی مشترکہ انجمن کے سابق صدر ذوالفقار عباسی نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے کہا کہ اس تجارت کو سکیورٹی پابندیوں سے آزاد کرکے کشمیر کے دونوں حصوں کو آزاد اقتصادی خطہ یا فری اکنامک زون قرار دیا جائے۔

ذوالفقار عباسی کا کہنا تھا ’ابھی تک ہم سن رہے ہیں کہ صرف اکیس اشیاء کی تجارت ہوگی۔ ہم تو کہتے ہیں تیس اشیاء پر پابندی عائد کی جائے۔ لیکن پھر ان کے بغیر ہر ایک چیز کی تجارت کی اجازت دی جائے۔‘

سرینگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے آئے تاجروں نے اس موقعے پر کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے لیکن اس عمل میں اگر تاخیر ہوجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کنٹرول لائن کے ذریعے ہو رہی تجارت سیاسی اور سفارتی مجبوریوں کی نذر ہوکر رہ جائے۔

بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ سلمان حیدر نے اعتراف کیا کہ کنٹرول لائن کی تجارت میں روکاوٹیں ہیں۔’اس تجارت کی کامیابی کا دار و مدار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی پر منحصر ہے۔‘

کشمیری تاجروں کے نمائندے مبین شاہ نے بتایا کہ ایک سو تیس سال قبل کشمیر کی خود مختار ریاست اور چین کے ساتھ ملنے والی شاہراہِ ریشم یعنی سِلک رُوٹ کے ذریعے کشمیر اور وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان سالانہ پینسٹھ ہزار کروڑ روپے مالیت کاتجارتی لین دین ہوتا تھا۔

اسی بارے میں