’گاندھی ایک لاجواب باورچی تھے‘

مہاتما گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مہاتما گاندھی روایتی بھارتی کھانا پسند کرتے تھے

مہاتما گاندھی کی شناخت صداقت اور عدم تشدد کی راہ پر چلنے والے اس شخص کی ہے جس نے بھارت کو آزادی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی لیے انہیں بھارت میں ’فادر آف دی نیشن‘ کا درجہ حاصل ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گاندھی ’لاجواب‘ روایتی بھارتی کھانا بنانا جانتے تھے۔

بھارت میں آزادی کی تحریک شروع کرنے سے پہلے مہاتما گاندھی جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں اپنے ایک دوست ہرمن کالین باکھ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔

مہاتما گاندھی کے جوہانسبرگ سے واپس آنے کے بعد دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کو کئی خط لکھے جنہیں لندن میں نیلامی کے لیے پیش کیا جانا تھا لیکن اب اطلاعات کے مطابق انہیں بھارتی حکومت نے خرید لیا ہے۔

جوہانسبرگ میں گاندھی اور کالین باکھ جس گھر میں رہتے تھے اس کا نام ’ستیہ گرہ‘ تھا۔

گاندھی اور کالین باکھ کے جوہانسبرگ میں گزارے دنوں کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی نامہ نگار ملٹن این کوسی جوہانسبرگ میں گاندھی کے مکان ستیہ گرہ ہاؤس گئے۔

ستیہ گرہ کو مقبول آرکیٹیکٹ کالین باکھ نے بنایا تھا جو کہ بعد میں مہاتما گاندھی کے اچھے دوست بن گئے تھے اور ان کے ساتھ اسی گھر میں رہے۔ اب یہ گھر ایک میوزیم میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ہرمن کالین باکھ کے رشتہ دار ایلین لپمین بالکل ہرمن کالین باکھ جیسے لگتے ہیں۔

اپنی نوجوانی میں نسلی امتیازی سلوک کے خلاف مہم چلانے والے سماجی کارکن ایلن لپمین کا کہنا ہے کہ مہاتما گاندھی نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔

لپمین کا کہنا ہے کہ جب مہاتما گاندھی اور کالن باکھ ساتھ رہتے تھے تو کالین بیکھ گاندھی کے لیے کھانا پکاتے تھے’لیکن اس کھانے کا ذائقہ گاندھی کو بالکل پسند نہیں آتا تھا۔ اس لیے گاندھی نے ایک دن کالین باکھ سے کہا کہ وہ گھر کی صفائی کی ذمہ داری لیں اور کھانا وہ خود بنائے گیں۔ گاندھی بھارتی کھانا اچھا بناتے تھے۔ انہیں روایتی زندگی بسر کرنا پسند تھا۔‘

اسی بارے میں