’شدت پسندی کے داغ کے ساتھ رہنا مشکل‘

محمد عامر
Image caption محمد عامر نے چودہ برس جیل میں گزارے ہیں

دلی پولیس نے محمد عامر کو آج سے چودہ برس پہلے مختلف بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ چودہ برس کی قید کے بعد محمد عامر خان کو انیس معاملات میں سے سترہ میں بے قصور ثابت ہونے کے بعد اس برس جنوری میں انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

محمد عامر پر سنہ 1996 اور 1997 کے درمیان دلی اور اس کے آس پاس کے شہروں میں ہونے والے بیس چھوٹے اور بڑے دھماکوں کے ماسٹرمائنڈ ہونے کا الزام تھا۔

محمد عامر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران جیل میں گزارے وقت کے بارے میں بتایا اور کہا ہے کہ ’شدت پسندی کے داغ‘ کے ساتھ زندگی گزارنہ مشکل ہے۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری اور جیل جانے سے ان کے والد کو ایسا صدمہ لگا کہ وہ نہ صرف اپنا کاروبار کھو بیٹھے بلکہ صدمے کے سبب اس دنیا سے چل بسے۔’میری ماں اس امید میں کہ ایک دن میں واپس گھر آؤں گا میرا انتظار کرتی رہیں‘۔

حالانکہ انکا کہنا ہے کہ انکی ماں اتنی کمزرو ہوگئی ہیں کہ وہ چل پھر نہیں سکتی ہیں۔

دلی پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکار پی اگروال نے محمد عامر کی رہائی کے بارے میں بی بی سی سے کہا ' یہ کون کہتا ہے کہ وہ بے گناہ ثابت ہوا ہے۔ عمر قید کی سزا کاٹ کر باہر آیا ہے'۔

لیکن محمد عامر کے وکیل این ڈی پنچولی اس دعوی کو غلط بتاتے ہوئے کہتے ہیں ' عامر کو دفعہ تین سو دو یعنی قتل کے ایک معاملے میں ہائی کورٹ نے بری کرد دیا تھا لیکن پھر ایک ذیلی عدالت نے ایک اور معاملے انہیں دس سال کی سزا سنادی۔ سزا کے دس سال نکل گئے پر اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں ہو پایا۔ آخر کار عامر کو دس کی جگہ چودہ برس جیل میں گزارنے پڑے'۔

محمد عامر نے میڈیا کو کہ بیس فروری 1998 کی رات کو سادہ کپڑوں میں آئے کچھ لوگوں نے انہیں زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

عامر نے بتایا کہ یہ افراد انہیں تھانے لے گیا اور جہاں ان کے کپڑے اتار کر ان کو بے رحمی سے پیٹا گیا۔

عامر نے مزید بتایا کہ مارپیٹ کے بعد وہ اٹھے ہی تھے کہ ان کے سامنے ایک سادہ کاغذ رکھا اور کہا ہے کہ اگر وہ اس پر دستخط کردیں گے تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔

محمد عامر نے بتایا ' مجھ سے کہا گیا کہ میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر کے سادے کاغذ پر دستخط کردوں تو وہ مجھے چھوڑ دیں۔ میری عمر کم تھی لیکن مجھے اس وقت پھر بھی یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ مجھ سے کچھ غلط کرنے کو کہ رہے ہیں'۔

عمار ان سینکڑوں نوجوانوں میں سے ایک ہیں جو شدت پسندی کے الزام میں بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور ان پر لگے الزام کبھی ثابت ہی نہیں ہوئے۔

انسانی حقوق کی کارکن منیشا سیٹھی کا کہنا ہے کہ الزام ثابت ہونا تو دور کی بات ہے ' درجنوں نوجوان ایسے ہیں جن پر ایک سے زیادہ بم دھماکوں کا الزام ہے اور کئی برس گزرنے کے بعد ان کے مقدمے کی سماعت بھی شروع نہیں ہوئی ہے'۔

محمد عامر کو انیس میں سے سترہ معاملات میں عدالت نے انہیں بری کردیا ہے لیکن ابھی بھی ان پر دو مقدمات باقی ہیں۔ عامر اور انکی والدہ کو اب ان مقدمات میں فیصلے کا انتظار ہے۔

عامر کہتے ہیں 'زندگی تین حصوں میں بٹ گئی۔ پہلے والا حصہ ویسا ہی تھا جیسا سب کا ہوتا ہے، ماں کا لاڈ - محبت، تعلیم - لکھائی، اہل خانہ کے ساتھ سکھ - دکھ تقسیم کرنا۔ دوسرا حصہ مشکل کا تھا۔ شدت پسندی کا الزام لگایا گیا۔ مشکل وقت میں اپنے رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑ دیا اور ان لوگوں کا سہارا ملا جو مجھے جانتے بھی نہیں تھا۔تیسرا دور یہ ہے جب مجھے بے قصور قرار دیا گیا'۔

محمد عامر نے جیل کے دوران تعلیم جاری رکھی۔ انکا کہنا ہے کہ جیل میں زندگی بے حد مشکل ہے اور اس مشکل میں مجھے زندہ رہنے کا احساس کچھ اخبار پڑھ کر اور بی بی سی ریڈیو سن کر ہوتا تھا۔

اسی بارے میں