ماروتی کی فیکٹری میں جھگڑا، اسی سے زائد گرفتار

ماروتی فیکٹری تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماروتی کی فیکٹری میں گزشتہ برس میں ملازمین اور اتنظامیہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا

بھارت کے دارالحکومت دلی کے قریب ماروتی سوزوکی کی ایک فیکٹری میں مینجروں اور ورکروں کے درمیان جھگڑے کے بعد اسی سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ماروتی سوزوکی کی کار فیکٹری ہریانہ کے شہر منیسر میں واقع ہے جہاں بدھ کے روز تشدد میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ اسی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان میں دو جاپانی شہری بھی شامل تھے۔

ماروتی بھارت میں کار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور اسے مارکٹ کا چالیس فیصہ سے زیادہ حصہ حاصل ہے۔ منیسر کی فیکٹری میں کام بند کردیاگیا ہے۔

ملازمین کا الزام ہے کہ ایک مینجر نے ان کے ایک ساتھی کے ساتھ بدسلوکی کی تھی جس کی وجہ سے جھگڑا شروع ہوا۔ لیکن فیکٹری کی انتظامیہ اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

اس فیکٹری میں گزشتہ برس بھی کافی کام بند رہا تھا اور تب سے ہی ورکروں اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماروتی کی کاریں بھارت میں بے حد مقبول ہیں

بتایا جاتا ہے کہ ورکروں نے فیکٹری کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور کئی جگہ آگ لگا دی۔ بعد میں ایک کانفرنس روم سے ایک بری طرح سے جلی ہوئی لاش برآمد ہوئی جس کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن بعض غیر تصدیق شدہ اخباری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ مارا جانے والا شخص ایک مینجر تھا۔

اس واقعہ کے بعد سے فیکٹری کے ارد گرد سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور وہاں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

گزشتہ برس کی ہڑتال کے بعد ماروتی کی کئی گاڑیوں کی پروڈکشن بری طرح متاثر ہوئی تھی اور اس کی سوئفٹ گاڑیوں کے لیے صارفین کو چھ چھ مہینے انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔

اس فیکٹری میں دو ہزار ملازمین ہیں اور وہاں ہر روز ایک ہزار گاڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ بھارت میں ماروتی کا تقریباً ایک تہائی پروڈکشن اسی فیکٹری سے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں