پرنب مکھرجی بھارت کے تیرہویں صدر منتخب

پرنب مکھرجی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرنب مکھرجی لمبے وقت سے کانگریس پارٹی کے لیڈر اور سرکردہ سیاست داں رے ہیں

بھارت میں حکمراں اتحاد یو پی اے کے امیدوار اور سابق وزیرِ خزانہ پرنب مکھرجی کو ملک کا تیرہواں صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنے حریف امیدوار پی اے سانگما کو ووٹوں کے بھاری فرق سے شکست دی۔

پرنب مکھرجی کی فتح کا باقاعدہ اعلان اتوار کی شام کو کیا جائے گا اور وہ پچیس جولائی کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

وزیر داخلہ پی چدامبرم نے پرنب مکھرجی کو صدر بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بدھ کو صبح ساڑھےگیارہ بجے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

پرنب مکھرجی بھارت کے تیرہویں صدر ہونگے اور یہ اس لیے کہ بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرشاد دو بار صدر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد پرنب مکھرجی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ' میں اپنے ملک کے ہر اس شخص کا شکرادا کرتا ہوں کہ جس نے میری حمایت کی اور بے حد پیار دیا۔ میں یو پے اے اتحاد اور دیگر پارٹیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس اعلی عہدے کے لائق سمجھا۔'

وہیں این ڈی اے امیدوار اور انتخابات میں پرنب مکھرجی کے حریف انتخابات میں شکست کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ' سب سے پہلے میں پرنب مکھرجی کو صدر بننے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مجھے صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ میں ان سبھی پارٹیوں کا شکر ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا نام اس عہدے کے لیے نامزد کیا۔'

انہوں نے مزید نے کہا ' میں نے صدر کے انتخابات میں بھلے ہی شکست پائی ہو لیکن اس شکست کے ساتھ ہی ملک نے ایک قبائلی لیڈر کو صدر کے عہدے پر دیکھنے کا موقع کھو دیا ہے۔'

پی اے سنگما کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کے الیکشن سے پہلے حکمراں یو پے اے نے بعض پارٹیوں کی حمایت کے لیے انہیں لالچ دیا ہے۔

پہلے سے ہی یہ بات تقریبا یقینی بتائی جا رہی تھی کہ پرنب مکھرجی کو صدر جمہوریہ کے انتخابات میں کامیابی ملےگی۔

صدر کے انتخاب کے لیے انیس جولائی کو ووٹ ڈالے گئے تھے اور ووٹوں کی گنتی اتوار کی صبح شروع کی گئی تھی۔

بھارت کے صدر کے انتخاب میں پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس انتخاب میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نئے صدر کا انتخاب کر رہے ہیں۔

ایک رکن پارلیمنٹ کے ووٹ کی قیمت سات سو آٹھ ہے جبکہ رکن اسمبلی کے ووٹ کی قیمت ان کی ریاست اور وہاں کی آبادی پر منحصر ہے۔

جمعرات کو کل سات سو اڑتالیس اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ ڈالے تھی جس میں سے پانچ سو ستائیس ووٹ پرنب مکھر جی کو ملے اور پی اے سانگما کے حق میں دو سو چھ ووٹ گئے جبکہ پندرہ ووٹ کالعدم قرار دیے گۓ۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں پرنب مکھرجی کو چوّن ووٹ ملے اور سانگما کو صرف دو ووٹ ملے جبکہ تین ووٹ رد قرار دیے گئے۔

اسی طرح جنوبی ہند کی ریاست آندھر پردیش میں ایک سو بیاسی ووٹ پرنب کو ملے ہیں اور تین ووٹ سانگما کے حق میں گئے جبکہ پانچ ووٹ کالعدم قرار دیے گئے۔

کانگریس پارٹی کی قیادت میں حکمراں یوپی اے اتحاد کا دعویٰ ہے کہ پرنب مکھرجی کے حق میں ستر فی صد ووٹ ڈالے گئے ہیں اور سانگما کے حق میں ووٹ کم پڑے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو کے ووٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے پہلے سانگما کے حق میں ووٹ ڈالا پھر پرنب مکھرجی کو ووٹ دیا تھا۔ ان کے ووٹ کو اس لیے خارج کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے اسے خفیہ نہیں رکھا۔

اس کے علاوہ گجرات سے بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے پرنب کے حق میں یہ کہتے ہوئے ووٹ ڈالا کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے کام کرنے کے طریقے سے ناراض ہیں۔

پرنب مکھرجی کو این ڈی اے کی دو اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی جن میں مہاراشٹر کی شیوسینا اور بہار کی جنتادل یونائیٹڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بائیں بازو کی جماعت سی پی ایم بھی ان کی حمایت کر رہی تھی۔

پرنب مکھرجی کو صدارتی امیدوار بنانے کے سوال پر وفاقی حکومت میں کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس ناراض ہوگئی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ وہ حکمراں اتحاد سے الگ ہو سکتی ہے لیکن پارٹی کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے’ نہ چاہتے ہوئے بھی‘ پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔

اسی بارے میں