انّا ہزارےایک مرتبہ پھر بھوک ہڑتال پر

انّا ریلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شروع میں انّا ہزارے کو جو عوامی حمایت ملی تھی اس بار وہ نظر نہیں آ رہی ہے

بھارت میں بدعنوانی کےخلاف تحریک چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے ایک بار پھر دارالحکومت دلی میں تا مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔

انّا ہزارے بھارت کے سرکاری حلقوں میں بدعوانی کی روک تھام کے لیے قانون چاہتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ادارہ لوک پال کا قیام چاہتے ہیں۔

حکومت ہند پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیں بار بار بھوک ہڑتال پر مجبور کر رہی ہے۔

انہوں نے اپنی ہڑتال کو ایک مضبوط لوک پال کے قیام تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ جن لوک پال بل پاس کرانا ہے اور ہم اس کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل وہ ایک دن کی اجتماعی بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔

انّا ہزارے نے پہلی بار گزشتہ برس اپریل میں دلی کے جنتر منتر پر لوک پال بل کے مسئلے پر بھوک ہڑتال کی شروعات کی تھی۔

واضح رہے کہ انّا ہزارے کی ٹیم گذشتہ سوموار سے ہی بھوک ہڑتال پر ہے۔ اس سے قبل ان کی ٹیم نے وزیر اعظم اور ان کے چودہ وزراء پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

انّا ہزارے نے اپنی بھوک ہڑتال شروع کرتے ہوئے کہا کہ ہرچند کے ان کے ساتھیوں نے انہیں اس بھوک ہڑتال میں شرکت سے منع کیا لیکن وہ اپنے ضمیر کی آواز پر اس میں شامل ہو رہے ہیں۔

ادھر خبروں کے مطابق ٹیم انا کے پندرہ افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جو پہلے سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔

انّا ہزارے نے کہا کہ یہ بھوک ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان ک ےمطالبے پورے نہیں ہو جاتے۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے ہم پر الزام لگایا ہے کہ ہم اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت خود گمراہ ہو گئی ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک پارلیمنٹ میں پندرہ بدعنوان وزراء موجود ہیں لوک پال بل پاس نہیں ہو سکتا۔

کہا جا رہا ہے کہ شروع میں انّا ہزارے کو جو عوامی حمایت ملی تھی اس بار وہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ لوک پال بل بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں پاس ہو چکا ہے لیکن گزشتہ برس دسمبر میں رات بارہ بجے تک ہونے والی طویل بحث کے بعد راجیہ سبھا میں اسے منظوری نہیں مل سکی تھی۔

دو سو پینتالیس ارکان پر مشتمل راجیہ سبھا میں حکومتی یو پی اے اتحاد کے ترانوے ممبران ہیں جبکہ اسے ستائیس دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے بل کی منظوری آسان نہیں تھی۔

اسی بارے میں