بھارت میں بجلی کا تعطل، تیس کروڑ متاثر

Image caption اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈھائی بجے بھارت کا شمالی گرڈ نیٹ ورک خراب ہو گیا

بھارت میں دارالحکومت دلی سمیت ملک کی چھ ریاستوں میں بجلی کی فراہمی میں تعطل سے تیس کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کے روز کم از کم چھ بھارتی ریاستیں پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتر پردیش اور راجھستان اس خرابی سے متاثر ہوئی ہیں۔

بجلی کے وزیر سشیل کمار شندے کا کہنا تھا کہ ساٹھ فیصد بجلی کی رسد بحال کر دی گئی ہے جبکہ باقی کو جلد ہی بحال کر دیا جائے گا۔

اس وقت یہ واضح نہیں کہ بجلی فراہم کرنے والا نظام کیوں خراب ہوا تاہم چند ریاستوں کی جانب سے اجازت سے زیادہ بجلی کا استعمال اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔

سشیل شندے نے مزید کہا کہ انہوں نے بجلی کے اس تعطل کی وجہ معلوم کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔

بجلی کا تعطل مقامی وقت کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈھائی بجے شروع ہوا جب بھارت کا شمالی گرڈ نیٹ ورک خراب ہو گیا۔

بجلی کے تعطل کی وجہ سے پیر کی صبح پنجاب، ہریانہ اور چندی گڑھ میں ٹرینیں بند ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریلوے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دلی کی میٹرو سروس بھی اس خرابی کی وجہ سے تین گھنٹے تک معطل رہی تاہم بھوٹان سے بجلی درآمد کے بعد اسے بحال کر دیا گیا۔

دلی شہر میں ٹریفک لائٹس بھی کام نہیں کر رہی تھیں جس کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں ٹریفک جام ہوگیا۔

دلی کے پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو بھی چند گھنٹوں کے لیے بند کیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں اور ٹرانسپورٹ نظام کو بجلی کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

بجلی کا تعطل بھارت میں ایک عام بات ہے جہاں بجلی کا نظام پرانا ہونے کے علاوہ بنیادی طور پر پیداوار ضرورت سے کم ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کا بہت عرصے سے موقف رہا ہے کہ بھارت کو توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی پر زور دینا چاہیے۔

کچھ اندازوں کے مطابق اس وقت جوہری تونائی بھارت کی بجلی کی رسد میں صرف تین فیصد حصہ دار ہے اور چند مجوزہ جوہری پلانٹوں کی تعمیر مقامی مخالفت کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔