بھارت: فی کس بجلی کا استعمال سب سے کم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت میں منگل کی بعد دوپہر بجلی مہیا کرنے والی اہم مشرقی، شمالی اور شمال مشرقی گرڈ کے ناکام ہونے سے ملک کے تقریباً نصف حصے سے بجلی غائب ہوگئی۔

اس سلسلے میں بی بی سی کے سوتیک بسواس نے چند ایسے حقائق پیش کیے ہیں جو شاید عام معلومات نہیں ہیں۔

سنہ 1947 میں آزادی کے وقت بھارت کے پاس 1362 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تھی لیکن موجودہ صلاحیت ایک لاکھ ستر ہزار میگا واٹ ہے۔

یہاں ساٹھ فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے جبکہ تقریباً بائیس فیصد بجلی پانی سے۔

توانائی کی طلب میں اضافے کے باوجود بھارت ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں فی کس بجلی کا استعمال سب سے کم ہے۔ بھارت میں فی کس استعمال 734 یونٹس ہے جبکہ دنیا کا اوسط استعمال 2429 یونٹس ہے۔ کینیڈا میں استعمال اٹھارہ ہزار یونٹس سے زیادہ ہے، امریکہ میں ساڑھے تیرہ ہزار سے زیادہ جبکہ چین میں 2456 یونٹس ہے۔

بھارت میں گھروں اور کھیتوں میں صنعتوں اور کاروبار کے مقابلے میں زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔ صنعت میں بجلی کا استعمال کم ہوا ہے۔ سنہ 71-1970 میں صنعتی استعمال اکسٹھ فیصد جبکہ 09-2008 میں صرف اڑتیس فیصد تھا۔

آزادی کے وقت ہی سے بھارت کو بجلی کی کمی کا سامنا رہا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق سب سے زیادہ طلب اور رسد میں فرق دس فیصد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آزادی حاصل کرنے کے پینسٹھ سال بعد تیس ریاستوں میں سے صرف سات ریاستیں (آندھرا پردیش، گوا، دلی، ہریانہ، کیرالا، پنجاب اور تمل ناڈو) ایسی ہیں جن کو سرکاری طور پر کہا جاتا ہے کہ پوری ریاست میں بجلی مہیا کی گئی ہے۔

اگرچہ فیڈرل فنڈز کا پندرہ فیصد توانائی کے لیے مختص کیا جاتا ہے لیکن بھارت کو توانائی کے بحران کا سامنا رہتا ہے۔ الیکٹرسٹی بورڈ دیوالیہ ہو چکا ہے، کوئلے کی فراہمی مشکل ہے، سبسڈی غلط انداز میں دی جا رہی ہے جس سے امیر کسانوں ہی کو دائدہ ہو رہا ہے، بجلی کی چوری وغیرہ ایسی وجوہات ہیں جس کے باعث بھارت میں بجلی کا بحران ہے۔

ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن میں نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 1996 میں یہ نقصان بائیس فیصد تھا جبکہ 2010 میں 25.6 فیصد ہے۔ جن ریاستوں میں سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے ان میں نپار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مدھیا پردیش اور جمو اور کشمیر ہے۔ جن ریاستوں میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کا سب سے کم نقصان ہو رہا ہے ان میں پنجاب، ہماچل پردیش، آندھرہ پردیش اور تمل ناڈو ہیں۔

بھارت کی سب سے پہلی نجی توانائی کی کمپنی کلکتہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن نے 1899 میں کام شروع کیا۔ ڈیزل سے بجلی کی پیداوار کا سب سے پہلی پلانٹ دلی میں 1905 میں لگا۔ پن بجلی کا سب سے پہلا پلانٹ میسور میں 1902 میں لگا۔

آزادی کے وقت توانائی کے سیکٹر کا ساٹھ فیصد نجی کمپنیوں کے پاس تھا۔ آج کل اسّی فیصد توانائی کا شعبہ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ نجی کمپنیاں صرف بارہ فیصد بجلی پیدا کرتی ہیں۔

اسی بارے میں