اناہزارے کی بھوک ہڑتال، پولیس کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس بار انا ہزارے کی تحریک میں لوگوں کی تعداد کم ہے

بھارتی دارالحکومت دلی میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سماجی رہنما انا ہزارے کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال پر ان کی ٹیم کو اگر انہیں زبردستی ہسپتال لے جایا گيا تو پھر حکومت سے بات چیت نہیں ہوگی۔

پارلیمان کے پاس جنتر منتر پر انا ہزارے اور ان کے بعض ساتھی غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت نازک ہوگئی ہے۔

بدھ کے روز دلی پولیس نے انا ہزارے کی ٹیم کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ یا تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں یا پھر ہسپتال منتقل ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔

لیکن انا ہزارے اور ان کے ایک دوسرے ساتھی اروند کیجری وال کا کہنا ہے کہ پولیس ان کی ٹیم کو زبردستی ہسپتال منتقل کرنے کے لیے سازشیں کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں مسٹر ہزارے کی ٹیم کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ بھی کیا گيا کہ اروند کیجری وال اور گوپال رائے کی حالت خراب ہے اس لیے وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور ان کی جگہ ٹیم کے دو دوسرے لوگ بھوک ہڑتال شروع کریں۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی بھوک ہڑتال ختم کراونے کے لیے انہیں زبردستی وہاں سے ہسپتال منتقل کرنا چاہتی ہے اور یہ اس کی ایک سازش ہے۔

انّا ہزارے نے کہا ’اگر حکومت نے زبردستی انہیں ہٹایا تو پھر میں حکومت میں شامل کسی سے بھی بات نہیں کروں گا۔ جب تک ہم میں طاقت ہے ہم بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ جب دلی میں بھوک ہڑتال کی اجازت دی گئی تھی تو انّا ہزارے کی ٹیم نے تحریری طور پر یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ انہیں ضرورت پڑنے پر ہسپتال منتقل کیا جائےگا۔

اس نئے دور کی ہڑتال کو آج ایک ہفتہ ہو گيا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ نظر نہیں آیا جس سے یہ لگتا ہو کہ حکومت ٹیم انا سے بات کرنے والی ہے۔

انا کی ٹیم نے اس بار جو بھوک ہڑتال شروع کی ہے اس میں لوک پال بل کی منظوری کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گيا ہے کہ حکومت مرکزی کابینہ کے پندرہ وزراء کے خلاف بدعنوانی کی تفتیش کرائے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک کابینہ کے پندرہ اہم وزراء کے خلاف تفتیش کے احکامات نہیں دیے جاتے اس وقت تک وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں