بھارت کے نئے اقتصادی چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے کئی شہروں کی آبادی دنیا کے کئی ملکوں سے زیادہ ہو جائے گی

تیس اور اکتیس جولائی سنہ دو ہزار بارہ کو دو دن تک مسلسل بجلی کی فراہمی میں خلل اور تعطل نے بھارت کے نظام برق رسانی کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

لوگ سوچ رہے ہیں کہ آیا معیشت کی آئندہ ضرورت کو پورا کرنے کےلیے حکومت نے کیا مؤثر قدم اٹھائے ہیں۔

تازہ ترین توانائی کے بحران نے شہری ترقی کے ڈھانچے کی ناکافی اور غیر مؤثرحالت کو اجاگر کیا ہے۔ جسے مستقبل کی ضروریات پورا کرنے کےلیے ایک بلند سطح پر لے جانے کی ضرورت شدید تر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ شہری حصوں کو بھارتی معیشت کی ترقی کا پیش رو بنانے کیلئے موجود ڈھانچہ دیوقامت تبدیلیوں کا دو دہائیوں تک مسلسل طلب گار رہے گا۔ ایک مؤثر پالیسی کا فقدان نہ صرف حالیہ شرح ترقی کو روک سکتا ہے بلکہ آئندہ ترقی کی شرح کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

عالمی سرمایہ کاری کے تجزیاتی ادارے میکنزی نےایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ شہری ترقی کے لیے درکار سنجیدہ اقدامات کے بغیر ملکی شرح ترقی کو سات اعشاریہ چار فیصد کی سطح پر ہی برقرار رکھنا دشوار ہوجائے گا جس کے منفی اثرات بے روزگاری کی سطح پر اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکتیس جولائی کو بھارت کے مرکزی بینک نے موجودہ معاشی سال میں اقتصادی نمو کی شرح میں کمی ظاہر کی ہے۔ اپریل سنہ دو ہزار بارہ میں یہ شرح سات اعشاریہ تین متوقع تھی جبکہ مارچ سنہ دو ہزار تیرہ تک یہ کم ہو کر چھ اعشاریہ پانچ چار تک جاسکتی ہے۔

بھارت کی شرح ترقی میں اضافہ صرف اس صورت میں ممکن ہوگا اگر اشیاء، زمین اور افرادی قوّت کی پیداواری استعداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جاتی رہیں۔ معاشرتی مقابلے میں آگے بڑھنے اور سبقت کےلیے ضروری ہے کہ بھارت ویسی ہی پیش بینی کرے جیسی چین نے حالیہ برسوں میں کی ہے۔ سنہ دو ہزار چھ سے اب تک چین نے بھارت کے چودہ گیگاواٹ کی اضافی برقی پیداوار کے مقابلے میں چوارسی گیگاواٹ بجلی اپنی قومی برقی پیداوار میں بڑھائی۔

بھارتی شہری آبادی فی الوقت معیار زندگی کے تمام پیمانوں پر پورا اترنے میں ابھی تک پیچھے رہتی چلی آ رہی ہے۔ جیسے جیسے آنے والے برسوں میں شہری آبادی بڑھے گی بنیادی سہولیات کی طلب میں پانچ سے سات گنا تک اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ موجودہ شہری ڈھانچہ میں حالیہ شرح سرمایہ کاری کے جاری رہنے کی صورت میں شہروں کو مؤثر اور منعفت بخش معیشت بننے میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا رہے گا۔ اس ضمن میں ایک بڑا حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی شہریوں کی پچہتر فیصد آبادی کا شمار اب تک نچلی آمدن کے طبقے میں ہوتا ہے اور ان کے معیار زندگی میں حقیقی بہتری ہی ملکی معاشی اٹھان کیلئے ایک کلیدی عنصر کا درجہ رکھتی ہے۔

بھارت میں اس وقت شہری آبادی کے تقریباً دس کروڑ لوگ کچی بستیوں میں رہتے ہیں۔ محض تیس فیصد گھر نکاسی آب کے نظام سے منسلک ہیں، مجموعی شہری آبادی کا دو تھائی بیت الخلاء کی سہولت کے بغیر ہے اور چالیس فیصد تک پانی نلکوں سے نہیں پہنچتا۔ عالمی بنک کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق حفظانِ صحت کے معیار کے مطابق بیت الخلا نہ ہونے کے باعث علاج پر پچاس بلین ڈالر صرف ہوتے ہیں اور قبل از وقت موت کی شرح بھی بلند ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال اور نکاسی آب کی ناکافی سہولیات کے سبب، بیماریوں کی شرح زیادہ ہے جو پیداوار کی شرح کو بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔ نظام آمدورفت میں خاطر خواہ بہتری نہ لانے کی صورت میں سڑکوں پر پھنسنے والی گاڑیوں کی شرح مسلسل بڑھتی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ دو ہزار تیس تک بھارت کی شہری آبادی انسٹھ کروڑ تک پہنچ جائے گی

شہری آبادی کو ترقی کا پیش رو بنانے کیلئے جو پانچ شرطیں پورا کرنا ضروری ہیں ان میں بھرپور سرمایہ کاری، منظم ادارتی صلاحیت، مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے ایسی معاشی ترقی کو فروغ دے جو عام شہریوں کی رہائش، بہتر ماحول کی نمو و افزائش اور ذرائع آمدورفت کے آسان انتظام کو یقینی بنائے اور شہری زندگی کے خدوخال کو بہتر تدبیر، تنظیم سے تشکیل دے جس سے نہ صرف ان شہروں کی نئی صورتگری ہوگی بلکہ مجوزہ اصلاحات قومی شرح پیداوار میں کھربوں روپے کے اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جن سے نظام آمدورفت، صحت و سلامتی، تعلیم کی ترقی کے نئے باب کھل پائیں گے۔ اس امر کیلئے لازم ہے کہ ملک میں رہائیش اور تجارتی رقبے میں ستر کروڑ سے نوئے کروڑ مربع میٹر کا ہر سال اضافہ کیا جائے جو کہ ممبئی کے برابر دو شہر آباد کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے شہری ڈھانچے پر فی شہری سرمایہ کاری جو کہ سترہ ڈالر ہے آٹھ گنا اضافہ کر کے ایک سو چونتیس ڈالر فی شہری تک پہنچانا ہوگا یعنی قومی مجموعی پیداوار کر صفر اعشاریہ پانچ فیصد کی موجودہ شرح سے بڑھا کر دو فیصد تک لانا ہوگا۔

اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں بھارتی شہروں میں آب رسانی سہولتوں میں تین اعشاریہ پانچ گنا اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی شہری آبادی پر چار گنا اور نجی ٹرانسپورٹ کی سہولتوں میں دو گنا اضافہ لایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی شہری آبادی کو تین اعشاریہ آٹھ فیصد مکانات کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سنہ بیس ہزار تیس تک ہر سال شہری ڈھانچے میں بھارتی تاریخ کی وسیع ترین تبدیلیوں کا لازمی لیکن طویل عمل شروع ہو۔ اس مد میں یہ ضروری ہوگا کہ بھارت سنہ دو ہزار پندرہ تک تیس ارب ڈالر سالانہ، سنہ بیس ہزار بیس تک ساٹھ ارب ڈالر اور سنہ بیس ہزار تینس تک نوے بلین ڈالر سالانہ سہولتوں کو یقینی بنانے اوپر خرچ کرے۔

عالمی ادارے میکنزی MGI نے اپنی اکیس ماہ طویل تحقیق کے ذریعے اس امر کا جائزہ لیا کہ آئندہ معاشی ترقی کے لئے لازم شرائط پوری کرنے کیلئے کس طرح کی تدبیر و تنظیم مطلوب ہے۔

ان شرائط کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کی صورت میں توقع ہے کہ پیداوار میں آگے بڑھتے شہر اپنی آمدنی میں چار گنا تک اضافے کی استعداد پیدا کرسکتے ہیں جس کے باعث ان تین اعشاریہ دو کروڑ لوگوں کی تعداد کہ جن کی آمدنی دو سے دس لاکھ روپے سالانہ ہے بڑھ کر چودہ اعشارہ سات کروڑ تک جاسکتی ہے۔

تجزیہ کے مطابق بھارتی شہری آبادی جو سنہ دو ہزار ایک میں انتیس کروڑ اور سنہ دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر چونتیس کروڑ ہوگئی تھی، سنہ دو ہزار تیس میں بڑھ کر انسٹھ کروڑ تک جا پہنچے گی، بھارت کی سب سے بڑی پانچ ریاستوں تامل ناڈو، گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک اور پنجاب کے شہروں میں آبادی کا حصہ دیہی آبادی سے بڑھ جائے گا۔ اگلے اٹھارہ برسوں میں بھارت کے چھتیس شہر عالمی معیشت کے ابھرتے مراکز بننے کی استعداد رکھتے ہیں۔ نہ صرف بھارت کے کئی شہروں کی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہوگی، مثلاً اگلے اٹھارہ برسوں میں ممبئی کی معیشت کا قومی پیداوار میں دو سو پینسٹھ ارب ڈالر حصّہ ہوگا جو ملائیشیا کی مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ ہے

ان تبدیلیوں کے باعث یہ توقع کی جا رہی ہے کہ شہری معیشت مجموعی ملکی آمدنی کا پچاسی فیصد تک حصہ فراہم کرسکتی ہے جس کی اولین شرائط یہ ہیں کہ وسیع تر سرمایہ کاری، مؤثر منصوبہ بندی نیز تعمیرات بھرپور طریقے سے اگلے اٹھارہ برس جاری رکھی جائیں۔