پاکستان سے براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی حکومت نے پاکستانی شہریوں اور اداروں کی جانب سے ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے۔

حکومت کے اس اعلان سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت میں زبردست اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس اعلان کے ساتھ بھارت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بھی اس ضمن میں مثبت قدم اٹھائے گا۔

بدھ کی شام کو وزارت تجارت کی طرف سے دلی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’حکومت ہند نے اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کے بعد پاکستانی شہریوں اور اداروں کو بھارت میں براراست سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے۔‘

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف دفاع، خلائی تحقیق و ترقی اور جوہری توانائی کے تین شعبوں میں پاکستانی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہو گی۔پاکستانی سرمایہ کاری کی تجاویز حکومت منظور کیا کرے گی۔

بنگلہ دیش اور پاکستان ایسے دو ممالک تھے جنہیں بھارت میں سرما یہ کاری کی اجازت نہیں تھی۔

حال میں بھارت نے بنگنہ دیش کے لیے بھی اپنی منڈی کھول دینے کا اعلان کیا تھا۔

بھارت کے وزیر تجارت آنند شرما نے کہا کہ بھارت نے اپنے پڑوسی کے ساتھ مشترکہ خوشحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور اب یہ پاکستان پر ہے کہ وہ نئے زمینی تجارتی راستے کھول کر اس عمل کو مزید آگے بڑھائے۔

’ہم نے جو اقدامات کیے ہیں ان سے خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔ اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس روڈ میپ میں اپنا کردار ادا کرے اور نئے تجارتی راستے کھولے۔ساتھ ہی وہ واہگہ سمیت ان نئے راستوں سے تجارت کے لیے نئی مصنوعات کو شامل کرے۔‘

بھارت اور پاکستان کے اقتصادی تعلقات بہت نچلی سطح پر رہے ہیں۔ سرکاری طور پر دونوں ملکون کی تجارت کا حجم تقریباً دو ارب ڈالر رہا ہے۔

کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایک مطالعے کے مطابق تجارتی تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں تجارت کا حجم فوری طور پر گیارہ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

سال دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی آئی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں نے حالات بہتر کرنے کے کئی اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان نے ‎سال کے آخر تک بھارت کو تجارت کے لیے ترجیحی ملک کا درجہ دینے سے اتفاق کیا ہے۔ لیکن اس کے نفاذ سے قبل ہی کئی مصنوعات کو پابندی کی فہرست سے نکال کر تجارت کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے اعلیٰ اہلکار کئی مہینوں سے توانائی کی تجارت پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اب تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ملٹی انٹری اور زیادہ شہروں کے لیے ویزے جاری کرنے اور نئے تجارتی راستے کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے یہاں بینک کی شاخیں کھولنے کے عمل کو بھی حتمی شکل دے رہے ہیں۔

پاکسان کے بعض تجارتی حلقون میں یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت سے تجارت کھلنے کی صورت میں بھارتی کمپنیوں کو پاکستان کے بازار پر غلبہ حاصل ہو جائے گا اور پاکستان کی اپنی کمپنیون کو نقصان پہنچے گا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں متوسط طبقے کی آبادی تقریباً تیس کروڑ ہے اور اس کی قوت خرید جنوب مشرقی یورپ کے ممالک کے برابر ہے۔

پاکستان کے مڈل کلاس کی آبادی تین کروڑ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اگر سرمایہ کاری اور تجارت کھلنےسے پاکستان کو بھارت کے دس فی صد متوسط طبقے تک بھی رسائی ہو گئی تو پاکستانی کمپنیوں اور تاجروں کے لیے بازار کا موجودہ سائز دوگنا ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کے فروغ پر اپنی توجہ مرکوز کی تو یہ متنازع معاملات کے حل میں بھی مدد گار ثابت ہو گا۔

اپنی دلیل میں وہ چین کی مثال دیتے ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان پیچیدہ سرحدی تنازع اور دیرینہ رقابت کے باوجود چین اب بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر اقتصادی انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں