’لو کمانڈوز‘: محبت کرنے والوں کے محافظ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں نے سوچا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس سے میں شادی کروں گا ۔ راج ویر سنگھ

بھارت میں زیادہ تر شادیاں والدین مذہب اور ذات پات کو دیکھ کر طے کرتے ہیں اور بہت سے لوگ آج بھی ’محبت‘ کو بری نظر سے دیکھتے ہیں۔

مگر ’لو کمانڈوز‘ کا ایک گروہ ان پیار کے دیوانوں کی مدد کو سامنے آ رہے ہیں۔

راج ویر سنگھ تئیس سال کا ایک خوبصورت خاموش سا نوجوان ہے۔ اس کی آنکھیں ایماندار لگتی ہیں اور بال ماتھے کو ڈھانپ لیتے ہیں۔

راج ویر بارہ سال کا تھا کہ ان کے پڑوس میں نئے ہمسائے آ گئے۔ چودہ سالہ مادھوری کو جب اس نے پہلی بار دیکھا تو اس کے مطابق، اس کو محبت ہو گئی۔

’میں نے سوچا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس سے میں شادی کروں گا۔ وہ شرارتی تھی اور اسی کی مسکراہٹ حسین، مجھے یقین تھا کہ وہ میرا خیال رکھے گی‘۔

ادھر چمکتی آنکھوں اور خوبصورت مسکان والی مادھوری کا کہنا ہے کہ ان کے جذبات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ آئندہ سالوں میں سکول جاتے جاتے ان کی محبت پروان چڑھنے لگی۔

مگر یہ بھارت ہے۔ یہاں والدین شادی کے امیدوار کی ایسے جانچ پڑتال کرتے ہیں جیسے ناسا کے سائنسدان اپنے جہازوں کا پرواز سے پہلے معائنہ کرتے ہیں۔

  • ذات
  • رنگت
  • قد
  • کردار
  • زائچہ
  • خاندان
  • تعلیمی قابلیت
  • کھانے کی عادات

مگر پیار کو اس کہانی میں کہیں گنا ہی نہیں جاتا۔

راج ویر اور مادھوری نے جب اپنے گھر والوں سے اپنی مرضی ظاہر کی تو انہیں شدید انکار کر دیا گیا۔ راج ویر کا خاندان ٹھاکروں کا ہے یعنی زمینداروں کا اور ادھر مادھوری کے گھر والے بنیے یعنی تاجر ہیں۔ شاید یہ جوڑ ناممکن ہے۔

مگر ان دونوں نے ہمت نہیں ہاری۔ جب مادھوری کے گھر والے اسے زبر دستی گاؤں واپس لے گئے تو راج ویر نے ایک منصوبہ بنایا۔ اس نے ’لو کمانڈوز‘ کو فون کیا۔

نام سے تو وہ لگتے ہیں لمبے قد والے، شمشیر اور گلاب تھامے ہیرو۔ مگر ایسا نہیں۔ بوڑھے تاجروں اور صحافیوں کا یہ گروہ دس سال پہلے نوجوانوں کو قدامت پسند ہندؤں اور مسلمانوں سے بچانے کے لیے بنایا گیا۔

اس گروہ کے بانی سنجے سچدیوا کئی فون کالوں کے بعد دلی ریلوے سٹیشن کے قریب لو کمانڈوز کی ایک خفیہ پناہ گاہ میں مجھے ملے۔

اس پناہ گاہ کا سماں ایک بند کوٹھری کا سا تھا مگر بھارت، جہاں محبت ایک سماجی اور سیاسی موقف سمجھی جاتی ہے، ایک خفیہ کوٹھری بڑی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

سنجے نے مجھے سمجھایا کہ کمانڈو کا عکس ان کی ہیلپ لائن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں محبت کرنے والوں کو تحفظ کی ضرورت ہے اور ان کو تقین ہونا چاہیے کہ یہ انہیں ملے گی۔

مادھوری اپنے گاؤں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور راج ویر سے ریلوے سٹیشن میں جا ملیں جہاں انہیں اس بات کا یقین تھا کہ دلی میں انہیں ایک محفوظ مقام مل جائے گا۔

اسی شام وہ لو کمانڈوز کی ایک پناہ گاہ پہنچے جہاں پھولوں، کچھ کپڑوں اور سادہ سے زیورات نے ان کا استقبال کیا۔ اہم بات یہ کہ ان کے میزبان حوصلہ افضاء اور نیک تمنائوں کے ساتھ ملے۔

چند ہی گھنٹوں میں ان کی شادی ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راج ویر اور مادھوری اپنے لو کمانڈوز کے ہمراہ

بات تو خوبصورت ہے مگر حقیقت میں مجنوئوں کی خدمت کرنا ایک مہنگا شوق ہے۔ لو کمانڈوز کا دلی کا بجٹ ماہانہ پانچ ہزار ڈالر تک چلا جاتا ہے۔

سگریٹ سلگاتے سنجے نے مجھے بتایا ’ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔ ہمارے یا ہمارے دوستوں کے پاس پیسے نہیں۔ پتا نہیں ہم کب تک اس کام کو آگے چلا سکیں گے‘۔

مگر پھر بھی کمانڈوز کا ماننا ہے کہ ذات پات میں پھنسے اس بھارتی سماج میں تبدیلی پیار کی شادیوں سے ہی آ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو نی سیف کے مطابق بھارت کی ایک ارب سے زیادہ کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ اٹھارہ سال کی عمر سے کم ہے۔ محبت کرنا آسان نہیں مگر محبتیں بڑھ رہی ہیں۔

جب تک لو کمانڈوز کے پاس پیسے رہے وہ آرام سے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

اسی بارے میں