جنوبی ایشیا میں توانائی کا اشتراک ضروری

بھارت تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کی کئی ریاستوں میں اس ہفتے پیر اور منگل کو کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہی تھی

دنیا بھر میں جنوبی ایشیا میں توانائی کے بڑے مواقع کی موجودگی کی بات کہی جاتی ہے لیکن یہی خطہ بجلی کی بھاری کٹوتی یا لوڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثال بھارت کی ہے جہاں پاور گرڈ فیل ہونے کی وجہ سے کئی ریاستوں میں بارہ گھنٹے سے زیادہ بجلی بند رہی۔

پاور گرڈ میں اتنی بڑی خرابی کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اہم وجہ بجلی کی سپلائی میں کمی ہے حالانکہ اسے کے لیے نیشنل پاور گرڈ کی صحیح سے دیکھ بھال نہ ہونے اور بجلی کی چوری کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔

ماہرین مانتے ہیں کہ جنوبی ایشیائی ممالک بجلی کی طلب اور اس کی رسد کے درمیان فرق کو اپنے توانائی کے بڑے ذخیروں اور دوسرے ممالک کے ساتھ بجلی کے لین دین سے کافی حد تک پورا کرسکتے ہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس سمت میں زیادہ پختہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

سرحد پار توانائی کے اشتراک کو فروغ دینے کے لیے امریکہ کی مدد سے چلنے والے ’ساؤتھ ایشین ریجنل انیشیئٹو‘ کے علاقائی ڈائریکٹر ایس پدنابھن کا کہنا ہے کہ ’جنوبی ایشیا دنیا کے کئی خطوں کے مقابلے توانائی کے کاروبار اور علاقائی اشتراک کے معاملے میں کافی پیچھے ہے‘۔

نیپال، بھوٹان، بھارت اور پاکستان کے پاس پن بجلی کی پیدوار کے بڑے مواقع ہیں جبکہ بنگلہ دیش گیس کے معاملے میں امیر ہے۔

ایس پدنابھن کہتے ہیں کہ ’توانائی کے ان مختلف مواقع کو دیکھتے ہوئے طلب اور رسد کے درمیان فاصلے کو باہمی اشتراک سے بہت کم کیا جا سکتا ہے‘۔

بھارت میں کوئلے کے ذخائر ملک کی معیشت کے لیے اہم ہیں وہیں پاکستان میں موجود کوئلے کی کانکنی ابھی باقی ہے۔ پاکستان میں بعض ایسے ساحلی علاقوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جہاں ہوائی چکیوں کی مدد سے بجلی کے حصول کی امید ہے۔

توانائی کے امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کے سبھی ذرائع کو آپس میں جڑےگرڈ سے جوڑ دیا جائے تو جنوبی ایشیا کی توانائی کی ضروریات پورا کی جا سکتی ہیں۔

اس وقت بھارت ایک لاکھ ستّر ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا کر سکتا ہے اور ملک میں سالانہ بجلی کی طلب چار فی صد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں مصروف گھنٹوں میں بجلی کی دس فیصد کمی رہتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کا بجران مزید بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سنہ دو ہزار تیس تک اسے پچاس ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہوگی جو کہ موجودہ پیداوار سے تین گنا زیادہ ہے۔

بھارت کے سابق پاور سیکریٹری آر بی شاہ کہتے ہیں کہ ’جنوبی ایشیا میں بجلی کی پیداوار کی جوصلاحیت ہے اسے دیکھتے ہوئے حالت اتنی خراب نہیں ہونی چاہیے تھی۔ نیپال کے پاس دو لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے اور بھارت کے پاس ایک لاکھ پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ بھوٹال اور برما کے پاس تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے‘۔

بھارت کے توانائی کے ریاستی وزیر سی وینوگوپال نے گزشتہ برس ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ ’سرحد پار توانائی کے کاروبار کا مسئلہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ اس میں بازار سے متعلق اور سب سے اہم سیاسی مسائل شامل ہیں‘۔

ایسا نہیں ہے سبھی ممالک توانائی کے اشتراک سے گریز کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھوٹان بھارت کو پن بجلی دیتا ہے جس سے بھارت کے نیشنل گرڈ کو کافی بجلی ملتی ہے۔

بھارت اور نیپال ، اور بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹرانسمشن لائن تیار کی جا رہی ہے جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی گرڈ کنیکٹوٹی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان توانائی کے اشتراک کے سلسلے میں بات چیت کافی سست ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں ابھی بھی بجلی کا بحران جاری رہے گا۔

اسی بارے میں