رشوت کے بغیر مرنے کی بھی اجازت نہیں

اننا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اننا ہزارے نے سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

بھارت کے سماجی کارکن انا ہزارے کو بلاآخر ملک کے سیاسی رہنماؤ ں اور سیاسی نظام کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

انا ہزارے نے بھارت کی ایک ایسی عفریت پر پیر رکھ دیا تھا جسے کوئی دور سے بھی دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔

انا ہزارے نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کر کے مر جائیں گے لیکن کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگے گی۔

بھارت کسی اور شعبے میں آگے ہو یا نہ ہو بدعنوانی کے شعبے میں بہت کم ملک اس کے معیار کو پہنچتے ہیں۔

پچھلے تیس چالیس برس میں اس شعبے میں ایسی ترقی ہوئی ہے اور بے ایمانی کے ایسے نت نئے طریقے ایجاد اور دریافت کیے گئے ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے بے ایمان یہاں کی بے ایمانی کے آگے شرمسار اور سرنگوں نظر آتے ہیں۔

بچے کی پیدائش کے سرٹیفیکٹ سے لے کر آخری رسوم کی ادائیگی تک بغیر رشوت کچھ بھی نہیں ہلتا۔

بقول شخصے ’رشوت کے بغیر تو یہاں مرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘

سکول میں داخلہ کرانا ہے تو رشوت دینی ہوگی۔ پولیس تھانے میں رپورٹ درج کرانی ہو، سرکاری ہستپال میں داخلہ ہو، ڈرائیونگ لائسنس ہو یا راشن کارڈ، شناختی کارڈ بنوانا ہو یا رہائشی پتے کا سرٹیفیکیٹ، بجلی کا کنکشن لینا ہو، مکان اور زمین کی رجسٹری کرانی ہو، کوئی بھی کام رشوت دیے بغیر نہیں ہو سکتا۔

بدعنوانی بھارت کے موجودہ نظام کا لازمی جزو بن چکی ہے۔یہ ایک ایسا معمول بن چکی ہے کہ کسی شاپنگ مال کی دوکان پر سجے ہوئے سامان پر لکھی ہوئی قیمتوں کی طرح ہر رشوت کی ایک قیمت مقرر ہے ۔

بھارت میں لفظ رشوت اب متروک ہو چکا ہے اور اس کی جگہ اب ایک نئی اور با وقار اصطلاح مروج ہے ۔۔۔’سویدھا شولک‘ یعنی ’آسانی کی فیس۔‘

بے ایمانی کا یہی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بے ایمانوں کی ایمانداری کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ جس کام کے لیے رشوت لی گئی ہے وہ کام ضرورہو گا۔

گزشتہ چار دہائیوں میں بھارت کی دولت کو ملک کے بے ایمانوں نے بری طرح لوٹا ہے۔ اس میں سیاسی رہنما بھی ہیں۔ صنعت کار بھی شامل ہیں اور سرکاری اہلکار بھی۔ ملک کے عوام محض بے بس تماشائی بنے رہے۔ بدعنوانی کو زندگی کی ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

آزادی سے پہلے بھارت ایک زرعی اور جاگیردرارانہ نظام کے تحت چلتا تھا۔ آزادی کے بعد جاگیردارانہ نظام کی جگہ جمہوری نظام نے لے لی۔

یورپ اور امریکہ کی جمہوریتوں اور جدید مملکتوں کے ارتقاء کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک نظام سے دوسرے نظام کی تبدیلی کے درمیان کا جو وقفہ ہوتا ہے اس میں ایک مرحلے پر سبھی ممالک کو اس طرح کی بدعنوانیوں سے گزرنا پڑا ہے اور تغیر کا عمل مکمل ہونے کے ساتھ بدعنوانی نئے نظام سے ختم ہونے لگتی ہے۔

بھارت میں بدعنوانی اس وقت اپنے عروج پر ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ملک میں کسی بحث کا موضوع نہیں بنتی تھی۔ کوئی اس کے بارے بات نہیں کرتا تھا تاہم انا ہزارے نے تحریک اسے ملک کے سب سے بڑے مسلے کے طور پر سامنے لائی۔

انا ہرارے کی تحریک سیاسی جماعتوں کے لیے ایک چیلنج بن گئی۔ اپنی بے عملی اور بے حسی کے سبب سیاسی جماعتیں خود کو مجرم محسوس کرنے لگیں اور یہ تحریک سیاسی نظام مخالف تحریک کا رخ اختیار کر گئی۔ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگا کہ عوام سیاسی رہنماؤں اور سیاسی نظام سے بدظن ہونے لگے ہیں انا بد عنوانی کے خلاف عوام کے جزبات کی علامت بن گئے جس کی وجہ سے ملک کی ساری سیاسی جماعتیں انا ہزارے کے خلاف متحد ہوگئیں۔

انا ہزارے کو بلآخر پیچھے ہٹنا پڑا۔ بدعنوانی کے خلاف لڑائی کے اس پہلے راؤنڈ میں انا اور ان کے ساتھیوں کی شکست ہوگئی لیکن بدعنوانی کے اس حمام میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو عوام نے ان کی اصل شکل میں دیکھ لیا ہے۔

اسی بارے میں