آسام:تشدد کے تازہ واقعات، چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فوجی گشت کے باوجود تشدد کے واقعات پوری طرح نہیں رکے ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں اکثریتی بوڈو قبائلیوں اور اقلیتی مسلمانوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں دس روزہ تعطل کے بعد ایک مرتبہ پھر ترائی کے علاقے میں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔

تشدد کے ان تازہ واقعات میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جس کے بعد ان نسلی فسادات میں ہلاک شدگان کی تعداد تریسٹھ ہوگئی ہے۔

چرانگ اور کوکرا جھار کے علاقوں میں ایک بار پھر سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج گشت کر رہی ہے۔

اتوار کی شام کو سکیورٹی حکام نے دو لاشیں چرانگ اور دو کوکرا جھار ضلع سے بر آمد کی تھیں۔ تازہ واقعات میں جن چار افراد کو ہلاک کیا گيا ہے اس میں دو وہ ہیں جو فسادات سے بچنے کے لیے کیمپ میں پناہ لیے ہوئے تھے اور سنیچر کو اپنے گھر واپس گئے تھے۔

پرتشدد واقعات کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے امدادی کیمپوں میں اب بھی پناہ لے رکھی ہے اور اطلاعات کے مطابق فوجی گشت کے باوجود کئی علاقوں میں اقلیتی مسلمانوں اور اکثریتی بوڈو قبائل کے درمیان اکا دکا جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

اس تشدد سے سب سے زیادہ ضلع کوکرا جھار متاثر ہوا ہے جہاں کئی دیہات سے لوگ نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر چلےگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پناہ لینے والے کیمپوں میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور کئی ہزار بچوں میں ملیریا کی شکایت پائی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے واقعات کوکراجھار میں اقلیتی طلباء تنظیموں کے دو رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اس حملےمیں آل بوڈو لینڈ مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے مجیب الاسلام اور آل آسام مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے عبدالصدیق شیخ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے چار سابق کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور تب سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق بوڈو قبائل نے جوابی کارروائی بڑی منصوبہ بندی سے شروع کی تھی یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ہر ممکن حکمت علمی کے باوجود تشدد کو روکا نہیں جا سکا۔

اسی بارے میں