آصف زرداری کے پانچ کروڑ روپے نذرانے پر تنازع

آصف زرداری
Image caption آصف زرداری نے اجمیر کی درگاہ کی زیارت پر پانچ کروڑ روپے کا نذرنہ پیش کیا تھا

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اجمیر شریف کی درگاہ کی زیارت کرنے پر جو نذرانہ پیش کیا تھا اس پر پیدا ہونے والا تنازع ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔

درگاہ کا نظم و نسق سنبھالنے والے دو اداروں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ اس رقم کا اصل حقدار کون ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آٹھ اپریل کو اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کی زیارت کے لیے بھارت کا دورہ کیا تھا۔

زیارت کرنے کے بعد انہوں نے اس تاریخی درگاہ کو پانچ کروڑ روپے کا نذرانہ پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ روز دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے اس معاملے کے حل کے لیے اجمیر کا دورہ کیا اور درگاہ کمیٹی کے فریقین سے ملاقات کی۔ لیکن پھر بھی معاملہ حل نہیں ہوا۔

ہائی کمیشن کے اہلکار ابرار احمد نے اجمیر میں خدام کی نمائندگی کرنے والی انجمن اور درگاہ کمیٹی کے حکام سے بات چیت کی ہے۔ پاکستانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ یہ رقم اجمیر میں ہی شاید سولہ اگست کو ایک تقریب میں دی جائے گي۔

درگاہ کی انجمن کے صدر حسام الدین چشتی کا کہنا ہے ’روایتی طور پر نذارنے پر انجمن کا حق بنتا ہے۔ اگر وہ ہماری حق تلفی کرتے ہیں تو پھر ہم اس تقریب میں شرکت کرنے کے بارے میں دو بار سوچیں گے۔‘

مسٹر حسام الدین کا کہنا تھا ’ہم نے پاکستانی حکام کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ نذرانہ انجمن کو دیا جانا چاہیے۔ اب پہلے انہیں اس پر فیصلہ کرنا ہے۔‘

لیکن درگاہ کمیٹی کے صدر سہیل خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی حکام کو بتایا ہے کہ کمیٹی کا ایکٹ ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی ان کے موقف کا حامی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے انہیں ایکٹ کی ایک کاپی اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی کاپی سونپی دی ہے۔‘

درگاہ کمیٹی نے آس پاس کے ترقیاتی منصوبوں کے متعلق منصوبے بھی انہیں پیش کیا ہے اور کہا ہے اگر پیسہ کمیٹی کو ملا تو وہ اس پر خرچ کیا جائےگا۔

سہیل خان کا کہنا تھا ’ہم نے پاکستانی قونصلر سے تفصیل سے بات چیت کی ہے اور انہیں بتایا کہ کمیٹی ایک غریب نواز ہسپتال اور زائرین کے لیے ایک مہمان خانہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ درگاہ کے احاطے میں ہی خواتین کے نماز پڑھنے کا انتظام اور بعض تعلیمی ادارے تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام ان کے موقف سے مطمئن نظر آئے۔ ’ہم نذرانہ مانگتے نہیں ہیں۔ صدر کی جانب سے یہ دیا گيا اور اس کا اعلان انہوں نے کیا۔ اس کا اعلان بھی ہمارے دستار بندی کی تقریب میں کیا گیا تھا۔‘

اطلاعات ہیں کہ حکام نے رقم کو تقسیم کرکے فریقین میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن خدام کی انجمن اس سے بھی مطمئن نہیں ہے۔

انجمن کے سیکرٹری واحد حسین کا کہنا تھا ’پہلے انہیں یہ فیصلہ کرنے دیجیے کہ کیا وہ درگاہ کمیٹی کے ساتھ جائیں گے تب ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ تقریب میں شریک ہونا ہے یا نہیں۔‘

آصف علی زرداری کے خادم اقبال کپتان بھی، جنہوں نے انہیں زیارت کرائی، انجمن کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں نے ہی زیارت میں زرداری صاحب کی مدد کی تھی لیکن روائتی طور پر نذرانے پر انجمن کا حق بنتا ہے اور انہیں ملنا چاہیے۔‘

اس سے پہلے جب سابق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے اجمیر کا دورہ کیا تھا تو دس لاکھ کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ جبکہ سابق وزیراعظم بینیظر بھٹو نے تقریباً تین لاکھ روپے کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

اسی بارے میں