’امریکہ بھارتیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے خلاف سکھوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں

امریکی ریاست وسکونسن کے ایک گورودوارے میں سکھوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے امریکہ سے بھارتی نژاد افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔

اتوار کو سکھوں کی ایک عبادت گاہ پر ایک بندوق بردار کے حملے میں حملہ آور سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے اس بارے میں اپنی امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن سے فون پر بات چیت کی ہے۔

ایس ایم کرشنا نے کہا کہ انہوں نے گرودوارہ میں ہوئے بہیمانہ جرم کے متعلق بھارتی تشویش سے امریکی حکام کو آگاہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ہلیری کلنٹن سے فون پر بات کرنے کا موقع ملا اور ہم نے انہیں مذہبی مقام پر ہونے والے حملے اور جانی نقصان کے تعلق سے بھارتی تشویش سے آگاہ کیا۔''

ان کا کہنا تھا کہ ’اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے بھارتی برادری کے لیے اس طرح کی یقین دہانی کرائی جانی چاہیے کہ بھارتی برادری کے مفاد کو تحفظ ملےگا‘۔

ایس ایم کرشنا نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایسی صورت حال میں ہر طرح کے مذہبی مقامات کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارت کار نروپما راؤ اس حوالے سے مستقل امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔

پانچ اگست کو ونسکونسن میں سکھ مذہب کے ماننے والوں کی ایک عبادت گاہ ( گرودوارہ) پر ایک سابق امریکی فوجی کی اندھا دھند فائرنگ سے چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے دوران ہی پولیس نے حملہ آور کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں