منموہن سنگھ کی حکومت ناجائز: اڈوانی

لال کرشن اڈوانی تصویر کے کاپی رائٹ AFPGetty Images
Image caption لال کرشن اڈوانی کے بیان پر پارلیمان میں کافی ہنگامہ ہوا ہے

بھارت میں حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارلیمان میں بحث کے دوران منموہن سنگھ کی حکومت کو ناجائز قرار دیا لیکن حکمراں ارکان کی طرف سے شدید مخالفت اور مذمت کے بعد انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔

پارلمینٹ میں آسام کے خونریز تشدد کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے بی جے پی کے سینیئر رہنما نے کانگریس کی حکومت پر بے عملی کا الزام لگاتے ہوئے جب یہ کہا کہ کانگریس کے حکمراں اتحاد کی حکومت ناجائز ہے تو ہنگامہ برپا ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایسا ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا جب اربوں روپے ووٹ حاصل کرنے کے لیے صرف کیے گئے ہوں۔‘

ان کے اس بیان پر لوک سبھا میں اتنا شدید ہنگامہ ہوا کہ ایوان کی کاروائی دو بار ملتوی کرنے پڑی۔

اسپیکر میرا کمار نے مسٹر اڈوانی سے اپنا بیان واپس لینے کی درخواست کی جس پر بی جے پی کے سینیئر رہنا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ بیان وزیر اعظم سنگھ کی سابقہ حکومت کے خلاف 2008 میں اعتماد کی تحریک پر ووٹ کے دوران ہونے والے واقعے کے حوالے سے دیا تھا۔

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے مسٹر اڈوانی سے اپنا بیان واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ’مسٹر اڈوانی ایک سینئیر رہمنا ہیں اور ہم سبھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ 2009 کا پورا انتخاب ناجائز تھا ہم سبھی کی توہین کی ہے۔‘

مسٹر اڈوانی کے بیان پر محترمہ سونیا گاندھی بھی برہم ہوئیں اور انہوں نے اس بیان کی مذمت کی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ مسٹر اڈوانی کا بیان انتہائی غیر مناسب ہے۔

يہ ہنگامہ آرائی آسام میں جاری خونریزی پر تحریکِ التوا کے تحت بحث کے دوران ہوئی اور آسام پر بحث نہ ہو سکی۔

ریاست آسام میں گزشتہ دنوں کے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 73 ہوگئی ہے جن میں اکثریت بنگالی مسلمانوں کی ہے۔

بوڈو قبائل اور مسلمانوں کے درمیان فسادات میں تین لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور انہوں نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں