’پناہ نہیں مل سکتی شہریت مل سکتی ہے‘

Image caption ’اس وقت وہ جو دلی میں رہ رہے ہیں ان کی حیثیت پناہ گزینوں کی سی ضرور ہے لیکن ان کی حیثیت کا تعین ابھی نہیں ہوا ہے‘

بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کے سیاسی پناہ حاصل کرنے کا معاملہ ابھی نیا ہے۔ گزشتہ برس اس طرح کا ایک اہم واقعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب انیس ہندو خاندانوں کے تقریباً ڈیڑھ سو افراد نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست کی۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاہدوں کے سبب ان معاملات میں سیاسی پناہ دینا مشکل ہے جبکہ اس کی جگہ دونوں ممالک ان معاملات میں شہریت دینے کے مجاز ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ مین تباہ کن سیلاب کے بعد گزشتہ برس تقریباً ڈیڑھ سو پاکستانی ہندو بھارت آئے۔ ان ہندوؤں نے پاکستان میں مذہب کے نام پر تفریق برتنے کی بنیاد پر بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست کی اور دلی کے ایک ہندو آشرم میں پناہ لے لی۔

بھارتی وزارت داخلہ نے ان ہندوؤں کے ویزے کی مدت میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا اور وزارت خارجہ نے سیاسی پناہ کی ان کی درخواست قبول نہیں کی۔ حکومت نے انہیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

بعض ہندو تنظیموں اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ‏دلی ہائی کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی۔ عدالت نے سیاسی پناہ کی ان کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک انہیں بھارت میں رہنے کی اجازت دے دی ۔

‏عدالت عالیہ میں ان کی نمائندگی کرنے والے حقوق انسانی کے سرکردہ وکیل بلونت سنگھ بلوریا نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت کی حکومت ان پاکستانی شہریوں کو بھارت کی شہریت تو دے سکتی ہے لیکن سیاسی پناہ نہیں۔ ’دونوں ملکوں کے ایک معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے شہری ایک دوسرے کے یہاں سیاسی پناہ نہیں لے سکتے۔ لیکن شہریت ضرور دی جا سکتی ہے۔‘

گزشتہ کئی مہینوں سے ان ہندوؤں کے قیام و طعام کا انتظام بعض ہندو تنظیمیں دیکھ رہی ہیں۔ بلیوریا کہتے ہیں ابھی تک ان ہندوؤں کی حیثیت کا تعین نہیں ہوا ہے۔ ’اس وقت وہ جو دلی میں رہ رہے ہیں ان کی حیثیت پناہ گزینوں کی سی ضرور ہے لیکن ان کی حیثیت کا تعین ابھی نہیں ہوا ہے۔‘

راجستھان میں بھی متعدد پاکستانی ہندوؤں نے پناہ لے رکھی ہے۔

پاکستان میں ہندوؤں کی حالت اور ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ تفریق پربھارت کی پارلیمنٹ میں بھی کئی بار سوال اٹھے ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر بھارت کی حکومت پاکستانی ہندو پناہ گزینون کی بظاہر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔

میڈیا اور ہندو تنظیمیں بھی ان واقعات کو نمایاں کرنے سےگریز کرتی رہی ہیں۔انہیں خدشہ ہے کہ پاکستان میں ہندو بڑی تعداد میں آباد ہیں اور بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کو سیاسی پناہ دیے جانے سے پاکستان کے ہندو شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اسی بارے میں