علاج کے لیے آٹھ دن کے بچے کو بیچ دیا

بچے کو فروخت کرنے والے والدین
Image caption بچے کو خریدنے والے والدین کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے

بھارتی ریاست راجستھان کی پولیس نے ان والدین کو گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے اپنے ساڑھے تین سال کے بچے کے علاج کے لیے اپنے آٹھ دن کے بچے کو چالیس ہزار روپے میں فروخت کر دیا۔

پولیس نے سندھیا اور ان کے شوہر سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ان میں سندھیا کے آٹھ روزہ بچے کو خریدنے والے میاں بیوی ونود اور شکنتلا بھی شامل ہیں۔

سندھیا نے اپنے آٹھ روزہ بچے کو صرف اس لیے فروخت کردیا تھا کیونکہ اس کے پاس اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کے علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔

اطلاعات کے مطابق سندھیا کا بڑا بیٹا جسمانی طور پر کمزور ہے اور وہ صحیح طرح چل نہیں پاتا۔

سندھیا نے اپنے بچے کو چالیس ہزار روپے میں فروخت کیا تھا۔

يہ گرفتاری ریاست کے سرحدی ضلع شری گنگا نگر میں اس وقت ہوئی جب سندھیا اور اس کے خاوند نے پولیس سے شکایت کی کہ انہیں وعدے کے مطابق اپنے بچے کی قیمت نہیں ملی ہے۔

پولیس کے مطابق بچے کی قمیت چالیس ہزار طے ہوئی تھی۔

شری گنگا نگر میں انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے ادارے کے سربراہ شرون داس نے بتایا کہ پولیس نے سودے کی پہلی قسط بیس ہزار روپے میں سے چودہ ہزار روپے برآمد کیے ہیں جبکہ سندھیا نے بتایا باقی کے چھ ہزار روپے ان کے بچے کی پیدائش میں خرچ ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی خرید و فروخت گود لینے کے نام پر کی گئی اور باقاعدہ کاغذي کارروائی بھی ہوئی۔

شرون داس کا کہنا ہے ’اس معاملے میں ملوث گواہ، وکیل اور دستاویزات کی رجسٹری کرنے والے سرکاری اہلکار سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور ان کے اوپر لگے الزامات صحیح ثابت ہونے کی صورت میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں‘۔

واضح رہے کہ راجستھان کی حکومت نے گزشتہ برس ریاست کے چودہ ہزار سرکاری ہسپتالوں میں تمام افراد کے لیے مفت دوا فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پھر کیوں سندھیا نے اپنے بچے کے علاج کے لیے دوسرے بچے کو فروخت کردیا؟ سرکردہ سماجی کارکن کویتا شریواستو اس سوال پر کہتی ہیں کہ’حکومت کی جانب سے مفت دوا فراہم کرنے کے فیصلے کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ہسپتالوں میں علاج ابھی بھی بہت مہنگا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایسے پروگرام شروع کرے جس سے معذور بچوں کو بھی فائدہ ہو اور ان کا علاج کرانا آسان ہو‘۔

اسی بارے میں