مغربی بنگال، خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ

Image caption ریاست مغربی بنگال میں جنسی زیادتی کے کئی واقعات ہوئے ہیں

بھارت میں تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ ریاست مغربی بنگال میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم ہوئے ہیں۔

دو ہزار گیارہ میں جنسی زیادتی اور جہیز کے لیے اموات جیسے تقریباً تینتیس ہزار واقعات ریاست میں درج کیے گئے ہیں۔

ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار راہول ٹنڈن کا کہنا ہے کہ کولکتہ جیسے شہر کے وہ معروف علاقے جو اپنی چہل پہل کے لیے جانے جاتے ہیں وہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔

کولکتہ کے پارک سٹریٹ جیسے علاقے جہاں شہر کے بڑے مشہور بازار اور ناٹ کلب ہیں وہ پہلے صبح چار بجے تک کھلے رہتے تھے۔

شہر کا یہ علاقہ پارٹیوں کا علاقہ کہلاتا ہے لیکن خواتین کے خلاف جنسی زیادتیوں کے کئی واقعات کے بعد خوف کے سبب اس علاقے کو رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہی بند کر دیا جاتا ہے۔

خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق اس رپورٹ کے بعد کہ ریاست مغربی بنگال اس میں سب سے آگے ہے بہت سے لوگ حیرت میں ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ کی وجہ کیا ہے۔ لیکن ایک مقامی رکن پارلیمان کے اس بیان کو خواتین گروپ نے مستر کر دیا ہے جس میں کہا گيا تھا کہ خواتین کے اشتعال انگیز لباس اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔

ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایسے حساس مسئلے پر ابھی تک کچھ بھی بیان نہیں دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ریاست بھر میں خواتین پولیس مراکز قائم کریں گی۔

اگر کولکتہ شہر کو اپنی عزت و قار کو واپس لانا ہے تو پھر یہ کام جلد ہی کرنا ہوگا کیونکہ بڑے شہروں میں کولکتہ خواتین کے لیے سب سے محفوظ مانا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں