بریلی:کرفیو جاری، شرپسندوں کوگولی مارنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 10:13 GMT 15:13 PST

دوگروہوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں

بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب کئی روز سے کرفیو جاری ہے اور بلوائیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں جس طرح کے حالات ہیں اس میں کرفیو میں نرمی کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔ بریلی میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے حالات خراب ہیں اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

لیکن کشیدگی میں اضافہ سنیچر کے روز اس وقت شروع ہوا جب ہندوؤں کے ایک مذہبی تہوار جنم اشٹمی کے جلوس کے دوران دونوں برادریوں میں پتھراؤ ہوا۔

اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیاگیا۔ بلوائیوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف گولی چلانے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اس وقت کے شہر کے تمام سکول، کالجز اور تجارتی مراکز بند ہیں لیکن ضروری سرکاری دفاتر کھلے رکھنے کے احکامات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فرقوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گولے داغے جس کی وجہ سے پولیس سمیت کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں بارہ دری، پریم نگر، قلعہ اور کوتالی میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دو پولیس سب انسپکٹر کو معطل کر دیاگیا ہے اور بارہ دری کے علاقے کے ایک انسپکٹر کا تبادلہ کیا گيا ہے۔

یہ دوسرا واقعہ ہے جب بریلی میں فرقہ وارانہ کشیدگي بڑھنے کے سبب کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ بائیس جولائی کے پہلے واقعے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت جو کرفیو نافذ ہوا تھا اسے سات اگست کو اٹھایاگیا تھا لیکن سنیچر کو پھر سے پر تشدد واقعات کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔