’بھارت کی سیاست بدعنوانوں کی گرفت میں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 18:17 GMT 23:17 PST
اروند کیجریوال اور کرن بیدی

بھارت میں گزشتہ ایک برس سے بدعنوانی کے خلاف تحریک جاری ہے

بد عنوانی کے خلاف تحریک کے علمبردار اور انّا ہزارے کی ٹیم کے اہم رکن اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ بھارت کی سیاست چند بدعنوان سیاست دانوں اور اور بے ایمان صنعتی گھرانوں کی گرفت میں ہے اور بھارت کو ان کے چنگل سے آزاد ی دلانے کے لیے صحیح رہنماؤں کی ضرورت ہے ۔

بھارت کی یوم آزادی کے موقع پر ایک بلاگ میں مسٹر کیجریوال نے لکھا ہے کہ آج بھارت میں عوام کی قسمت چند بدعنوان سیاست دانوں ، اہلکاروں اور بے ایمان صنعتی گھرانوں کی یر غمال بنی ہوئی ہے ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’میں اس دن کی امید کرتا ہوں کہ جب ہم صحیح آزادی حاصل کر سکیں گے ، جب عوام اپنی قسمت کے خود مالک ہونگے اور جب سیاست خدمت کرنے کا ذریعہ ہو گی دولت کمانے کا نہیں‘۔

کیجریوال نے لکھا ہے ’بھارت کو ایسے نظام کی ضوررت ہے جس میں عوام قانون سازی کے عمل میں براہ راست حصے دار ہوں اور ان کا کردار ہر پانچ برس میں کچھ لوگوں کو محض منتخب کرنے تک محدود نہ ہو‘۔

کیجریوال انا ہزارے کی تحریک کے سب سے اہم رکن تصور کیے جاتے ہیں۔ دو ہفتے قبل انّا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے کانگریس کی حکومت کو بدعنوان قرار دے کر ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

انا کی ہی طرز پر شمالی ہندوستان کے ایک معروف سادھو اور یوگا گرو بابا رام دیو نے بھی کالے دھن کے خلاف تحریک کے نام پر کانگریس حکومت کے خلاف مہم چلا رکھی تھی۔

"بھارت کو ایسے نظام کی ضوررت ہے جس میں عوام قانون سازی کے عمل میں براہ راست حصے دار ہوں اور ان کا کردار ہر پانچ برس میں کچھ لوگوں کو محض منتخب کرنے تک محدود نہ ہو۔"

اروند کیجریوال

بابا رام دیو نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کے خلاف مہم چلائیں گے ۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ ’کانگریس کا ایک بھی ایم پی جیتنے نہ پائے‘۔

ادھر گجرات میں وزیر اعلی نریندر مودی نے بھی یوم آزادی کی اپنی تقریب میں وزیر اعظم منوہن سنگھ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ مودی نے کہا ہے کہ یہ حکومت ملک کو آگے لے جانے کا اپنا وقت کھو چکی ہے۔مودی نے اپنی تقریر میں کئی مرحلوں پر خود کو قومی سطح کے رہنما کے طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ۔

خود وزیر اعظم نے یوم آزادی پر اپنی تقریر میں دفاعی رخ اختیار کیا ہے ۔ بدعنوانی کے سوال پر انہوں نے یہ صفائی دینے کی کوشش کی کہ ان کی حکومت نے کیا کیااقدامات کیے ۔ اقتصادی سست روی کے لیے انہون نے بجائے اپنی پالیسیون کی ناکامی کا اعتراف کرنے کے انہوں نے حزب اختلاف کو ذمےدار قرار دیا ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے منموہن سنگھ کے خطاب کو ’سرد اور بے سمت‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔