’میرے کھانے میں کچھ ملا کر دیا جارہا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 17:17 GMT 22:17 PST

پاکستان کی جیل میں قید موت کے سزا یافتہ بھارتی شہری سربجیت سنگھ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل میں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔

بھارت میں حکمران کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو لکھے گئے ایک خط میں سربجیت سنگھ نے کہاہے کہ جیل میں انہیں ’غیر صحتمند‘ کھانا دیا جا رہا ہے اور اس سے ان کے ہاتھوں اور پیروں پر اثر پڑ رہا ہے۔

انہون نے اس خط میں لکھا ہے کہ جیل حکام کا رویہ بہت خراب ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

سربجیت سنگھ کو دہشت گردی کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے اوروہ لاہور کی کوٹ لکھپت رائے جیل میں قید ہیں۔

سونیا گاندھی کے نام یہ خط پاکستان میں ان کے وکیل اویس شیخ لے کر آئے ہیں۔ مسٹر شیخ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ لاہور پہنچنے کے بعد وہ جیل حکام سے سربجیت کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں یہ بھی کہا کہ وہ لاہور میں داخلہ سکریٹری سے بھی اس سلسلے میں بات کریں گے۔

سربجیت نے ہندی میں تحریر اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’میرے کھانے میں کچھ ملا کر دیا جارہا ہے جس سے میری صحت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اور میرے ایک پیر میں بہت درد رہنے لگا ہے۔‘

"میرے کھانے میں کچھ ملا کر دیا جارہا ہے جس سے میری صحت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اور میرے ایک پیر میں بہت درد رہنے لگا ہے۔"

سربجیت سنگھ

سربجیت نے جیل میں دوائیں نہ ملنے کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’طعنے مارنا جیل حکام کا روز کا معمول بن چکا ہے‘۔

وکیل اویس شیح نے بتایا کہ کہ ایک بار انہوں نے لکھپت جیل میں سربجیت سنگھ سے ملاقات کے دوران انہیں دیے جانے والا کھانا چکھا تھا اور وہ بہت ہی خراب تھا۔ ’وہ انسانوں کے کھانے لائق نہیں تھا۔‘

سربجیت نے سونیا گاندھی سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے اپیل کریں کہ وہ ان کی بہن اور بیٹی کو ان سے ملنے کی کے لیے ویزا جاری کرے۔

مسٹر شیخ سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور اور بیٹی پونم کے لیے بھی خط لے کر آئے ہیں۔ سربجیت کی بہن دلبیر کور نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کے ہائی کمیشن سے اس بارے میں بات کریں اور ان سے کہیں کہ کوٹ لکھپت رائے جیل کے حکام سربجیت کے لیے مناسب کھانے کا انتظام کریں اور انہیں طبی امداد فراہم کریں۔

سربجیت کو پاکستان کے شہر لاہور میں سیریل بم دھماکوں کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ 1990 میں ہونے والے ان بم دھماکوں میں 14 افراد مارے گئے تھے۔ مارچ 2006 میں پاکستان کی سپریم کورٹ ان کی رحم کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

حال ہی میں ان کے وکیل اویس شیخ نے صدر آصف علی زرداری سے رحم کی درخواست کی ہے۔ اس میں انہوں نے سربجیت کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران سربجیت نے کہا تھا کہ وہ ایک کسان ہے اور وہ نشے کی حالت میں سرحدکے اس پار آگیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔