شمال مشرقی علاقوں سے لوگوں کا انخلا جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 09:22 GMT 14:22 PST
آسام میں حالیہ تشدد کے بعد کی ایک تصویر

شمالی مشرقی علاقوں کے سب سے زیادہ لوگ بنگلور سے واپس جارہے ہیں

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی یقین دہانیوں کے باوجود شمال مشرقی ریاستوں کے طلباء اور ملازمین کا بنگلور، پونے اور حیدرآباد جیسے شہروں سے انخلاء جاری ہے۔ اس رجحان کی وجہ حال ہی میں آسام میں تشدد کے واقعات کے بعد کشیدگی دیگر علاقوں میں پھیلنے کے خدشات ہیں۔

گزشتہ شام وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یقین دلایا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں شمال مشرقی علاقوں کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ افواہیں پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

شمال مشرقی علاقوں کے سب سے زیادہ لوگ بنگلور سے واپس گئے ہیں۔ افواہیں پھیلنے کے بعد اب چینئی سے بھی شمال مشرقی چلاقوں سے لوگ اپنی ریاستوں کو واپس جا رہے ہیں۔

ملک کے مختلف شہروں سے لوگوں کے انخلاء پر بھارت کی پارلیمنٹ میں تشویش ظاہرکی گئی ہے۔ دونوں ایوانوں میں وقفہِء سوالات معطل کر کے افراتفری کی صورتحال پر بحث ہوئی اور ارکان نے شمال مشرقی خطے کے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک کے ہر حصے میں پوری طرح محفوظ ہیں۔

پولیس اس سلسلے میں افواہیں پھیلانے والوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایس ایم ایس، یو ٹیوب اور فیس بک جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بعض ویب سائٹوں پر آسام کے تشدد سے متعلق اشتعال انگیز تصویریں اور ویڈیو لگائی گئی ہیں۔ پولیس ان کے ذرائع کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بنگلور میں اس طرح کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں کہ رمضان کے بعد شمال مشرقی ریاستوں کے باشندوں پر حملے کیے جائیں گے ۔ارکان پارلمیان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہ پتہ لگائے کہ کہ ان افواہوں اور اس کے نتیجے میں انخلاء کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے پونے میں کئی طلبہ اور ملازمین پر حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں ملوث بعض افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں کے لوگوں پر حملے کی افواہیں گزشتہ سنیچر ممبئی میں آسام کی صورتحال پر مسلمانوں کے ایک پر تشدد احتجاجی مظاہرے کے بعد شروع ہوئیں۔

ادھر آسام میں پورے ملک سے ہزاروں لوگوں کی واپسی سے صورتحال کشیدہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں کل سے تشدد کا کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ آسام کے علاقوں کوکھرا جھار ،چیرانگ اور ڈوبری میں فسادات کے بعد اب بھی لاکھوں لوگ ریلیف کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔