’افواہوں کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 19 اگست 2012 ,‭ 23:07 GMT 04:07 PST

بھارت نے کہا ہے کہ جن افواہوں سے گھبرا کر شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں ملک کے مختلف حصوں سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اس کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔

وفاقی سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے سنیچر کو کہا کہ لوگوں کو بھڑکانے کے لیے برما کی پرانی تصاویر استعمال کی گئی ہیں اور موبائل فونز پر جھوٹے ایس ایم ایس بھیجے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا ’یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا جائے گا، حالانکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اس بات سے انکار کریں گے لیکن ہماری ٹیکنکل ٹیم کو کوئی شبہہ نہیں ہے۔‘

بھارت کے کئی بڑے شہروں میں گزشتہ چار دنوں سے افرا تفری کا عالم ہے اور صرف بنگلور سے تقریباً تیس ہزار افراد آٹھ خصوصی ٹرینوں میں سوار ہوکر آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں کو واپس چلے گئے ہیں۔

"یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا جائے گا، حالانکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اس بات سے انکار کریں گے لیکن ہماری ٹیکنکل ٹیم کو کوئی شبہہ نہیں ہے۔"

وفاقی سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ

افواہوں کا سلسلہ اس ہفتے کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور یہ انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کے ذریعہ تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔ ان پیغامات میں کہا گیا تھا کہ آسام کے فسادات کا انتقام لینے کے لیے شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے افراد کو رمضان کے بعد نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ان افواہوں کی وجہ سے بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونے جیسے بھارت کے بڑے شہروں سے لوگوں نے شمال مشرق واپس لوٹنا شروع کردیا ہے۔

یہ معاملہ اتنی سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے کہ جمعہ کو تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر پارلیمان کے پلیٹ فارم سے یہ پیغام دیا کہ شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس اپیل اور حفاظتی انتظامات میں سختی کے باوجود لوگوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے ۔ کئی شہروں میں خصوصی ہیلپ لائن کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس تعینات کی گئی ہے۔

لوگوں کا انخلاء جاری

بھارت کے کئی بڑے شہروں میں گزشتہ چار دنوں سے افرا تفری کا عالم ہے اور صرف بنگلور سے تقریباً تیس ہزار افراد آٹھ خصوصی ٹرینوں میں سوار ہوکر آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں کو واپس چلے گئے ہیں۔ ان افواہوں کی وجہ سے بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونے جیسے بھارت کے بڑے شہروں سے لوگوں نے شمال مشرق واپس لوٹنا شروع کردیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جمعرات کو یقین دلایا تھا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں شمال مشرقی علاقوں کے افراد میں اعتماد پیدا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد افواہیں پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

شمال مشرقی علاقوں کے سب سے زیادہ لوگ بنگلور سے واپس گئے ہیں۔ افواہیں پھیلنے کے بعد اب چینئی سے بھی شمال مشرقی چلاقوں سے لوگ اپنی ریاستوں کو واپس جا رہے ہیں۔

آسام کے تین اضلاع تقریباً ایک مہینے سے فسادات کی زد میں ہیں۔ وہاں بوڈو قبائلیوں اور باہر آ کر بسنے والے مسلمانوں کے درمیان تشدد میں چھہتر افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریباً تین لاکھ نے رلیف کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

اگرچہ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ بوڈو قبائلیوں کے پشتینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بنگلہ دیشی مسلمانوں کے بسنے کی وجہ سے یہ فسادات ہو رہے ہیں لیکن قومی اقلیتی کمیشن کی ایک ٹیم نےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہےکہ لڑائی مقامی مسلمانوں اور بوڈو قبائلیوں کے درمیان ہو رہی ہے۔

مقامی مسلمانوں کا الزام ہےکہ بوڈو قبائلی انہیں اپنے علاقوں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کر سکیں۔

افواہوں کا سلسلہ روکنے کے لیے ملک میں اجتماعی ایس ایم ایس بھیجنے پر پندرہ دن کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے اور افواہیں پھیلانے اور شمال مشرق کے باشندوں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔