’ہمارا دل جیل میں ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 20 اگست 2012 ,‭ 15:04 GMT 20:04 PST
آسیہ اندرابی

آسیہ خواتین کی علیٰحدگی پسند تنظیم ’دختران ملّت‘ کی سربراہ ہیں

بیس سال سے اپنے خاوند کے ساتھ عید منانے کی منتظر آسیہ اندرابی خود بھی قیدوبند کی صعوبتوں سے گزری ہیں۔ انہوں نے چھ ماہ کے بیٹے کے ساتھ بھی جیل کاٹی ہے۔

پینتالیس سالہ آسیہ ان سینکڑوں خواتین میں سے ہیں جن کے لیے عید خوشیوں کا نہیں بلکہ پرانی یادیں کریدنے کا باعث بنتی ہے۔ آسیہ خواتین کی علیٰحدگی پسند تنظیم ’دختران ملّت‘ کی سربراہ ہیں اور ان کے شوہر محمد قاسم ایک تربیت یافتہ عسکریت پسند ہیں جو بیس سال سے قید ہیں۔

آسیہ کہتی ہیں کہ ’میری اور میرے جیسی سینکڑوں بہنوں کے لیے عید کے معنی ہی کچھ اور ہیں۔ ہمارا دل تو آج کے دن جیل کی اُس کال کوٹھری میں ہوتا ہے جہاں ہمارے شوہر قید ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس سال کے دوران ان کے شوہر نے چالیس عیدیں جیل میں منائیں۔ ’ہر عید پر میرے بچے دوستوں کو والد کے ساتھ عیدگاہ جاتے دیکھتے ہیں۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جاکر عورتوں میں ہی نماز پڑھواتی تھی، اب وہ بڑے ہوگئے ہیں۔‘

پچھلے کئی سال سے عید کے موقع پر قیدیوں کا مسئلہ مقامی حکومت کے لیے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ پچھلے بائیس سال سے یہ معمول رہا ہے کہ ’عیدگفٹ‘ کے طور پر حکومتیں قیدیوں کو رہا کرتی رہی ہیں۔ لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا، حالانکہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ سو سے زائد افراد کو مختلف جیلوں میں قید رکھا ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان میں بیشتر کو عسکریت پسندی یا مظاہروں کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔

لیکن ہند نواز اسمبلی کے ایک سرگرم رُکن عبدالرشید شیخ حکومت کی اس پالیسی کو ’ایک فرسودہ سسٹم‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے بھی سات سال تک جیل میں رکھا گیا، پھر عدالت نے مجھے باعزت بری کیا۔ اسی طرح بہت ساری مثالیں ہیں۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پولیس اور فورسز کے افسران ترقیوں اور سرکاری اعزازات کے لیے لوگوں کو گرفتار کر کے انہیں جھوٹے کیسوں میں پھنساتے ہیں۔‘

عبدالرشید شیخ

عبدالرشید شیخ کہتے ہیں کہ انہیں سات سال جیل میں رکھا گیا

مسٹر شیخ کہتے ہیں کہ گرفتاریوں، قیدو بند اور پابندیوں کا جو نظام کشمیر میں رائج ہے، اس کی وجہ سے حکومت ہند خود اپنے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے پچھلے سال گرفتار کیے گئے نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا، لیکن اکثر کنبوں کا کہنا ہے کہ یہ وعدہ محض ایک دکھاوا تھا۔ اس سال ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

قیدوبند کی اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو لوگ کئی سال کی جیل کاٹ کر رہا کر دیے جاتے ہیں، ان میں اکثر دوبارہ مظاہروں پر آمادہ ہوتے ہیں۔ سرینگر کے شکیل احمد بٹ چار سال بعد اپنے اقربا کے ساتھ عید پر موجود ہوں گے۔

شکیل کہتے ہیں ’میں صحت یاب ہوتے ہی دوبارہ مظاہروں میں شامل ہو جاؤں گا۔‘

یہ پوچھنے پر کہ پچھلے دو سال سے اکثر نوجوان تعلیم اور نوکریوں کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں، شکیل نے بتایا ’ہمارے لیڈروں نے دو ہزار آٹھ اور دو ہزار دس میں غلطیاں کیں جس سے لوگ مایوس ہوگئے، لیکن یہ کسی لیڈر کی جاگیر نہیں۔ جدوجہد جاری رہے گی۔‘

پینتیس سالہ شکیل دراصل مسلح شورش شروع ہوتے ہی پاکستان چلے گئے تھے، جہاں سے ہتھیاروں کی تربیت کے بعد وہ واپس لوٹے، لیکن طویل جیل کاٹنے کے بعد وہ غیرمسلح مظاہروں میں سرگرم ہوگئے۔ حراست کے دوران انہیں کافی اذیتیں دی گئیں جسکی وجہ سے ان کے دونوں گردوں میں خرابی پیدا ہوگئی، ان کے چودہ دانت ٹوٹ گئے، اور ان کے گال پر گرم سلاخ داخل کرنے سے مستقل نشان پڑ گیا ہے۔

عید کے موقع پر کشمیر کے بازاروں میں چہل پہل اور گھروں میں بظاہر رونق ہوتی ہے، لیکن تیس ہزار بیواؤں، ایک لاکھ یتیموں اور دس ہزار لاپتہ افراد کے اقربا کی موجودگی میں اکثر لوگوں کو یہ عید مغموم کر دیتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔