ممبئی میں ہندو قوم پرستوں کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 16:48 GMT 21:48 PST
راج ٹھاکرے کی جماعت کی ریلی

اطلاعات کے مطابق ریلی کے دوران تقریباً پندرہ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے

ممبئی میں ہندو قوم پرست رہنما راج ٹھاکرے نے گیارہ اگست کو مسلم تنظیموں کے زیر انتظام ہونے والے ایک جلسے کے دوران تشدد کے خلاف ملک کے اس کاروباری مرکز میں ایک بڑی ریلی نکال کر قصور وار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بعض مسلم تنظیموں نے آسام میں بوڈو قبائلیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر مبینہ زیادتیوں کے خلاف گیارہ اگست کو ممبئی میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا تھا لیکن جلسے کےدوران بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

راج ٹھاکرے قوم پرست جماعت مہارشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ ہیں اور انہوں نے پولیس سے اجازت نہ ملنے کے باوجود منگل کو جلوس نکالا جس سے ممبئی کے آزاد میدان کے آس پاس کے علاقوں میں عام زندگی بری متاثر ہوئی۔ لیکن پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔

آسام میں تقریباً ایک مہینے سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان خونریز تشدد جاری ہے جس میں پچھتر سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگوں نے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ مسلم تنظیموں کا الزام ہے کہ آسام میں زیادہ تر مسلمانوں کا ہی جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

جلسےسے خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ حکومت نے تشدد کے بعد بھی قصوروار افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے لہذا ریاست کے وزیر داخلہ کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

بتایا جاتا ہے ریلی کے دوران تقریباً پندرہ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

گیارہ اگست کے تشدد میں دو مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے جبکہ چوالیس پولیس اہلکاروں سمیت باون افراد زخمی ہوئے تھے۔

آسام کے فسادات کے بعد سے ملکی میں افواہوں کا سلسلہ گرم تھا اور شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف ایسے ایس ایم ایس گردش کر رہے تھے جن میں رمضان کے بعد ان کے خلاف تشدد کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

ان افواہوں سے گھبراکر بڑی تعداد میں شمال مشرق کے باشندوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا۔ بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ یہ افواہیں ایک ’سائبر جنگ’ کا حصہ تھیں اور ان میں سے زیادہ تر افواہوں کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔

شہر کی انتظامیہ کو ڈر تھا کہ کہیں مسٹر ٹھاکرے کے حامی اس ریلی کو مسلم مخالف نہ سمجھ بیٹھیں اور نتیجے میں انتقامی کارروائی شروع ہوجائے لیکن راج ٹھاکرے نےواضح کیا تھا کہ یہ ریلی نہ مسلمانوں کے خلاف تھی اور نہ ہندوؤں کے حق میں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔