افواہیں پھیلانے میں ہندو تنظیموں کا ہاتھ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 07:20 GMT 12:20 PST
آسام کی فوٹو

بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں کئی ہفتوں سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کی درمیان تشدد جاری ہے

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی اس رپورٹ کے بعد کہ شمال مشرق کے باشندوں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے میں پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کا کردار بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا، اب ایک اور اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے کہا ہے کہ حکومت نے جو ویب پیجز بلاک کیے ہیں ان میں سے بیس فیصد کے پیچھے ہندو انتہاپسندوں کا ہاتھ تھا۔

اخبار کے مطابق ’سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر پاکستان کی جانب سے مذہبی منافرت پھلائے جانے کےالزام پر ہنگامےمیں ایک بات نظر انداز کر دی گئی ہے اور وہ یہ کہ جو ویب پیج حکومت نے بلاک کیے ہیں ان میں سے تقریباً بیس فیصد مذہبی تفریق پیدا کرنے کے لیے ہندو شدت پسندوں نے اپ لوڈ کیے تھے۔‘

بدھ کو ’انڈین ایکسپریس‘ کے نامہ نگار امیتابھ سنہا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بھارت نے پیر تک دو سو پینتالیس ویب سائٹس بلاک کی تھیں اور ان میں سے صرف بیس فیصد میں شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں یا آسام کے فسادات کا ذکر تھا اور ’ صرف ایک یا دو میں آسام کے فسادات کی اصلی یا فرضی تصاویر اور ویڈیو استعمال کی گئی تھیں۔‘

دلی سے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق گزشتہ جمعہ کو بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے یہ الزام عائد تھا کہ جن افواہوں اور دھمکی آمیز ایس ایم ایس پیغامات کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان سائٹس پر ’مسلمانوں کے ہاتھوں بوڈو قبائلیوں کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کی فرضی تصاویر اور ویڈیو شائع کی گئی ہیں اور ان کے ساتھ اشتعال انگیز کیپشن لگائے گئے ہیں۔‘

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں کئی ہفتوں سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد جاری ہے جس میں اب تک پچھہتر سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ملک کے کئی شہروں میں یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ عید کے بعد شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف انتقامی کارروائی کی جاسکتی ہے جس کے بعد ان افراد نے بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کردیا تھا۔

" اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ کئی پیجز پر تبتی لوگوں کی خود سوزی کی تصایر شائع کی گئی ہیں لیکن انہیں اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جیسے یہ ’غیرقانونی طور پر شمال مشرق میں بسنے والے مسلمانوں کے ہاتھوں ’آسامی ہندوؤں’ پر زیادتی کے واقعات ہوں۔"

یہ بات پہلے بھی کہی جا رہی تھی کہ اتنے بڑے پیمانے پر افواہیں پھیلانے میں ہندو انتہا پسندوں کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ کئی پیجز پر تبتی لوگوں کی خود سوزی کی تصایر شائع کی گئی ہیں لیکن انہیں اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جیسے یہ غیرقانونی طور پر شمال مشرق میں بسنے والے مسلمانوں کے ہاتھوں ’آسامی ہندوؤں‘ پر زیادتی کے واقعات ہوں۔

بدھ کی شام سرکاری ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈین ایکسپریس نے جو نتائج اخذ کیے ہیں وہ صحیح صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے اور یہ کہ داخلہ سیکریٹری نے جو بیان دیا تھا وہ ’ حقائق پر مبنی تھا۔‘

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایجنسیوں کو اس بات کے سراغ بھی ملے ہیں کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے والے بہت سے ایس ایم ایس پیغامات بھی ہندو تنظیموں نےبھیجے تھے تاہم حکومت کی جانب سے ابھی اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گيا ہے۔

اخبار نے ایک مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بنگلور سے حال ہی میں یہ اطلاع ملی تھی کہ تین خواتین ایک ٹرین کو بم کے دھماکے سے اڑانے کی سازش کر رہی ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اطلاع دینے والا شخص ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کا کارکن تھا۔

اس کے علاوہ پندرہ اگست کو حیدرآباد میں پاکستان پرچم لہرائے جانےکی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی تھی لیکن بعد میں پتہ چلاکہ ویڈیو بھارتی نہیں بلکہ پاکستان کےشہر حیدرآباد کی تھی۔

ان افواہوں سے ملک میں پیدا شدہ صورتحال پر پارلیمان میں بحث کےدوران بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے کہا تھا کچھ طاقتیں اس نازک صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں لیکن انہوں نے ان طاقتوں کی نشاندہی نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔