ٹو جی کیس: پی چدامبرم کو’کلین چٹ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 07:35 GMT 12:35 PST
پدچدامبرم

چدامبرم فی الوقت ملک کے وزیر خزانہ ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ موبائل فون لائسنس کے اجراء سے متعلق اربوں روپے کے ٹو جی گھپلے میں وزیر خزانہ پی چدمبرم کا کوئی کردار نہیں تھا۔

جنتا پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر قانون سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ مسٹر چدمبرم کو ٹو جی کیس میں ملزم بنانے کی ہدایت جاری کی جائے کیونکہ سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔

حزب اخلاف بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اس کیس میں مسٹر چدمبرم کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پارلیمان میں ان کا بائیکاٹ کرتی ہے۔

ٹو جی کیس میں حزب اختلاف کا الزام ہے کہ سابق وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ نے غیر قانونی طریقے سے اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام بیش قیمت سپیکٹرم الاٹ کیا تھا جس سے سرکاری خزانے کو پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اے راجہ کو ایک سال سے زیادہ جیل میں گزارنے کے بعد حال ہی میں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

اس کیس میں درخواست گزار پرشانت بھوشن اور سبرامنیم سوامی کا موقف تھا کہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے پی چدمبرم چاہتے تو اے راجہ کو روک سکتے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی چدمبرم کے خلاف کسی سازش میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی حکومت کے لیے ایک عرصے کے بعد اچھی خبر ہے اور اسےاب بی جے پی پر جوابی حملہ کرنے کا موقع ملے گا۔

بی جے پی نے کوئلے کی کانوں کے الاٹمنٹ کے سلسلے میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی روک رکھی ہے۔

کانوں کی نیلامی پر سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانوں کو نیلام نہ کیے جانے سے حکومت کو ایک لاکھ چھیاسی ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سی اے جی کے اختیار کردہ طریقہ کار سے وہ اتفاق نہیں کرتی۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مسٹر چدمبرم نے مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے عہدے کا بے جا استعمال کیا تھا۔

اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے ٹو جی سپیکٹرم کے ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت یہ لائسنسن نیلامی کے ذریعے جاری کرے۔

لیکن عدالت کے فیصلے کے بعد سبرامنیم سوامی نے کہا کہ وہ نظرثانی کی اپیل داخل کریں گے۔

ٹو جی کیس کا جائزہ لینے کے لیے حزب اختلاف کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں بی جے پی کے ارکان اب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو طلب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔