بدعنوانی کا بول بالا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 09:39 GMT 14:39 PST
اننا ہزارے

اننا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف قومی سطح پر تحریک چلائی ہے

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے جب ایمانداری اور اخلاقیات بھارت کی سیاست اور عوامی زندگی کی بنیاد ہوا کرتی تھی۔

ملک کے سیاسی رہنما سیاست کو ملک و قوم کی خدمت کا ایک ذریعہ تصور کیا کرتے تھے۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوتاتھا جب کسی رہمنا پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے کام کرنے یا بے ایمانی کا کوئی الزام لگتا ہو۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اصولوں کی بنیاد پر معروضی بحث ہوا کرتی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سیاست ایک پیشہ ورانہ شعبہ اور صنعتی سائنس بن گئی تو ظاہر ہے کہ اس کا رنگ روپ سب کچھ بدل گیا۔ لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ بھارت کے قابل اور فاضل سیاست داں انتہائي قلیل عرصے میں ملک کو ایک ایسی منزل پر پہنچا دیں گے جہاں اس کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگے گا جو بد عنوانی کی جنّت کہے جاتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ انا ہزارے جمہوری نطام کے کوئی علم بردار نہیں ہیں۔ بعض معاملات میں ان کے خیالات انتہائی فرسودہ اور بعض اوقات جمہوریت مخالف بھی ہیں ۔

یہ بھی صحیح ہے کہ ان کے بہت سے ساتھی نطریاتی طور پر حزب اختلاف کی طرف مائل نطر آتے ہیں ۔ لیکن جو بات اہم اور سب سے بڑا سچ ہے وہ یہ کہ انا اور ان کے ساتھیوں نے پوری ایمانداری کے ساتھ بے ایمانی کے خلاف مہم چلائی ہے اور ان میں کئی اشخاص کی پوری زندگی بے ایمانی کے خلاف جنگ میں گزری ہے ۔

دلی میں پارلیمان کے نزدیک جنتر منتر پر انا اور ان کی ٹیم طاقتور سیاستدانوں سے بھلے ہی پست ہو گئی ہو لیکن بدعنوانی کے خلاف اس تحریک میں اس نے ملک کے سیاست دانوں کو اخلاقی شکست دے دی ہے ۔

انا کی ٹیم کو شکست

دلی میں پارلیمان کے نزدیک جنتر منتر پر انا اور ان کی ٹیم طاقتور سیاستدانوں سے بھلے ہی پست ہو گئی ہو لیکن بدعنوانی کے خلاف اس تحریک میں اس نے ملک کے سیاست دانوں کو اخلاقی شکست دے دی ہے ۔

حکومت اور ملک کے سیاست داں اس قدر گھبرائے ہوئے ہیں کہ انہوں نے انا اور ان کے ساتھیوں پر ہر طرح کے حملے شروع کر دیے۔

پہلے انا پر بے ایمانی کا الزام لگایا۔ پھر معافی مانگی۔ سینیئر رکن پرشانت بھوشن کے بارے میں افواہیں پھیلائیں کہ انہوں نے ایک زرعی زمین کی خریداری میں قانون کی خلاف ورزی کی۔ ایک اور سینئر رکن شانتی بھوشن پر جائیداد ٹیکس میں پچاس لاکھ روپے کا اضافی نوٹس بھیجا۔ کرن بیدی پر بھی پانچ چھ ہزار روپے کی ہیرا پھیری کا الزام لگایا ۔ایک سینیئر رکن منیش سیسودیا کے این جی او کے دفتر پر دو دنوں سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے افسران چھاپے مار رہے ہیں۔

بد عنوانی کے خلاف مہم میں یو گا گرو بابا رام دیو جس زور شور سے اترے اتنی ہی شدت سے حکومت نے ان پر حملہ کیا۔ بابا کے قریبی معاون پاسپورٹ کے لیے غلط سرٹیفیکٹ جمع کرنے کے الزام میں پجھلے ایک مہینے سے جیل میں ہیں اور اب ان کے خلاف غیر ملکی کرنسی ایکٹ کے تحت بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ خود بابا کو ان کی آیورویدیک دوائیون اور یوگا کیمپوں کے انعقاد کے لیے کرو ڑوں روپے کے ٹیکس کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اگرچہ انا کی تحریک کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھی لیکن موجودہ حکومت نے بد عنوانی کے خلاف مؤثر قانوں بنانے میں انا کے ہر مطالبے کی جس طرح مزاحمت کی اور ان کے مشوروں کو رد کیا اس سے یہ تحریک حکومت مخالف لگنے لگی۔ بی جے پی سمیت حزب اختلاف کی ساری جماعتیں بلاشبہ بد عنوانی کے سوال پر انا کے خلاف اور دل سے حکومت کے ساتھ ہیں لیکن سیاسی فائدہ ہوتا ہوا دیکھ کر وہ انا کی حمایت کے لیے مجبور ہیں۔

انا ا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا۔

یہ بات ٹیلی مواصلات اور کوئلے کی کانوں کے کھربوں روپے کے گھپلے کے الزامات میں ڈوبی ہوئی حکومت کی سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو لیکن انا کا پیغام عوام تک اچھی طرح پہنچ چکا ہے۔ بدعنوانی کے سوال پر حکومت آج ملزم کی طرح کھڑی ہے۔

اور اگر آئندہ دو تین مہینے میں انتخابات کرادیے جائیں تو شاید حکمراں جماعت کو اپنی تاریخ کے بد ترین نتیجے کا سامنا کرنا پڑے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے کچھ کھوئے بغیر یہ سبق سیکھنے کا ایک بہترین موقع ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔