کچھ دیکھا ہوا سا لگتا ہے۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 13:09 GMT 18:09 PST
بھارتی پارلیمنٹ

بھارتی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف وزیر اعظم کے استعفی کی مانگ کر رہی ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ میں تعطل کی تازہ صورت حال کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ سب پہلے بھی ہو چکا ہے۔

گذشتہ سال پارلیمنٹ سیشن تہتر دنوں یا آٹھ سو گھنٹے جاری رہا تھا اور ایک آزاد تحقیقی ادارہ پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے مطابق ان آٹھ سو گھنٹوں میں تیس فیصد وقت ہنگامے کی نذر ہوگیا تھا۔

پارلیمنٹ کی نشست کے دوران کل چوّن بلوں کو قانونی درجہ دیا جانا تھا لیکن ان میں سے کل اٹھائیس بل ہی منظور ہو سکے تھے۔ جب پارلیمنٹ کا سیشن اختتام کو پہنچا اس وقت پارلیمنٹ میں ستانوے بل منظور ہونے باقی تھے۔

لیکن اس سال ایک طرح کی تبدیلی اور امید کی کرن نظر آئی۔

پی آر ایس کے مطابق اس سال بجٹ سیشن (مارچ تا مئی) میں تقریباً نوے فیصد اوقات کا قابل قدر استعمال ہوا اور بارہ بل منظور کیے گئے جبکہ سترہ نئے بل پیش کیے گئے جبکہ سیشن کے اختتام پر سو بل التوا میں پڑے تھے۔

اسی دوران گذشتہ سال کا کالا سایہ پارلیمنٹ پر منڈلاتا نظر آیا اور حالیہ مانسون سیشن میں حزب اختلاف کی اہم جماعت بی جے پی کے ہنگامے کے سبب بیتے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ بہر حال اس سیشن میں بیس دنوں کی کارروائی پوری ہو چکی ہے۔

کوئلہ گھپلے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کے استعفے کی مانگ کی گئی اور اس شدت سے کی گئی کہ پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہو گئی۔

میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ اس بابت وزیر اعظم نے کچھ کہنا چاہا لیکن بی جے پی کے ارکان نے اسے اہم نہیں سمجھا کیونکہ انھیں صرف وزیراعظم کا استعفیٰ چاہیے تھا۔

بی جے پی اس معاملے پر بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں ہے، پارٹی کو ہنگامہ منظور ہے لیکن بات چیت نہیں۔

یہ ایک الگ امر ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی معطل ہونے سے بھارت کو کس قسم کا نقصان ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ سیشن میں پارلیمنٹ میں کچھ اہم قوانین بننے تھے جن میں بدعنوانی مخالف قانون، دفتروں میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے خلاف قانون، کسی غلط کام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تحفظ فراہم کرنے والا قانون اور اعلی تعلیمی نظام کو درست کرنے والا قانون شامل ہے۔

لیکن تازہ صورت حال کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ ان پر بحث بھی ہو جائے تو غنیمت ہے قانون بننا تو دور کی بات ہے۔

بھارت میں ایک جانب ایسی حکومت ہے جو اہم معاملوں پر فیصلے نہیں لے پارہی ہے تو دوسری جانب ایسا حزب اختلاف ہے جو اپنے جھگڑالو رویے سے باز آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایسے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان بلوں کے پاس ہونے میں آگے کنواں ہے تو پیچھے کھائی ہے۔ اور اس سے یہ احساس بڑھ جاتا ہے کہ بھارتی جمہوریت خطرے میں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔