آسام میں بجرنگ دل کی ہڑتال،زندگی مفلوج

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST

آسام کے بہت گاؤں میں گھروں کو جلا دیا گیا ہے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ہندو نظریاتی تنظیم بجرنگ دل کی جانب سے بارہ گھنٹے کی ہڑتال کے باعث عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

پیر کو بجرنگ دل نے ریاست کے بعض حصوں میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف بارہ گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

وشو ہندو پریشد ( وی ایچ پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس سمیت بعض ديگر ہندو نظریاتی تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریاست میں بیشتر سکول، کالجز اور ديگر تعلیمی اور تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی بہت کم لوگ کام کے لیے پہنچے۔

سڑکوں پر کار، بسیں اور دیگر گاڑیاں بھی برائے نام چل رہی ہیں جبکہ سرکاری بسوں پر سکیورٹی گارڈز کوتعینات کیا گیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ہڑتال کے حامیوں نے بہت سی جگہوں پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور روڈ پر آنے جانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گيا۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر پولیس نے ریاستی دارالحکومت گوہاٹی، گوپال گنج اور اگومونی میں تقریبا پانچ سو افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

آسام میں گزشتہ کئی ہفتوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی جاری ہے اور فرقہ وارنہ تشدد میں اب تک تقریباً نوے افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاست کے ترائی علاقوں میں بوڈو قبائیلیوں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان چند ہفتے قبل فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوا تھا جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور کئی علاقوں میں اب بھی کرفیو نافذ ہے۔

تشدد کے سبب بہت سے افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے تقریبا چار لاکھ افراد خوف کے سبب کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ریاست کے کوکراجھار، چرانگ اور دھبری ضلعے تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ واضح رہے کہ کوکراجھار اور چرانگ میں قائم امدادی کیمپوں سے بوڈو قبائل اپنے گھر لوٹنے لگے ہیں لیکن دھبری کے امدادی کیمپوں میں مسلمان ابھی بھی مکین ہیں۔

اس دوران ریاست میں ایک بار پھر سے زبردست بارشیں ہوئی ہیں جس سے کئی علاقوں میں سیلاب کی سی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔