الزامات پارلیمان میں چیلنج کریں گے،منموہن

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 08:06 GMT 13:06 PST
منموہن سنگھ

وزیراعظم کے مطابق سی اے جی کی رپورٹ متنازعہ فیہ ہے

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کوئلہ گھپلے سے تعلق کے بارے میں پالیمان میں ایک بیان دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کیا اور اپنے فیصلوں کا دفاع کیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی طرح کی بدانتظامی کا الزام بے بنیاد اور حقائق سے پرے ہے۔ سی اے جی کی میں خامیاں ہیں اور جب پارلیمانی اکاؤنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیگی تو اسے چیلنج کیا جائےگا۔‘

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ہنگامہ آرائی کے دوران وزیراعظم نے حزب اختلاف کو اس مسئلے پر بحث کی دعوت دیآ

انہوں نے کہا ’میں ایک بار پھر اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایوان میں واپس آئیں اور ان مسائل پر بحث کریں اور عوام کو یہ فیصلہ کرنا دیں کہ سچ کیا ہے۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ جب یہ بیان دے رہے تھے تو ایوان میں حزب اختلاف کے ارکان زور و شور سے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے جس کے سبب ان کی بات سننی مشکل تھی۔

بعد میں انہوں نے یہی بیان ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں پڑھا اور پھر ایوان کے سپیکر نے اجلاس کو ملتوی کر دیا۔

ایوان کے باہر بھی وزیراعظم نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ وہ سیاسی معرکہ آرائی کے لیے تیار ہیں۔

اس سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں نے کوئلہ گھپلے پر بحث کے بجائے ایک بار پھر پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی تھی جس کے بعد اجلاس ملتوی ہوگيا تھا۔

"میں کہنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی طرح کی بدانتظامی کا الزام بے بنیاد اور حقائق سے پرے ہے۔ سی اے جی کی میں خامیاں ہیں اور جب پارلیمانی اکاؤنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیگی تو اس ےچیلنج کیا جائیگا۔"

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی وزیراعظم منموہن سنگھ کے استعفے کے لیے اپنے مطالبے پر بضد ہے اس لیے پارلیمان کا اجلاس ایک ہفتے سے نہیں چل سکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ اس سے پہلے کہ وزیراعظم تہران میں جاری نا وابستہ تحریک میں شرکت کے ایران روانہ ہو جائیں، اس معاملے پر ان کا موقف سنا جانا چاہیے۔

ناوابستہ تحریک میں شرکت کے لیے منموہن سنگھ آج ہی تہران جانے والے ہیں اسی لیے انہوں نے اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود اپنا موقف پیش کر دیا۔

اس سے قبل اس تعطل کو دور کرنے کے لیے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار نے کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے موقف پر اٹل ہے۔

دو ہزار پانچ سے دو ہزار نو تک وزیراعظم منموہن سنگھ کے پاس کوئلے کی وزارت تھی اس لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے وہ اخلاقی طور پر اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔

بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حکومت نے کوئلے کی کانوں کے مختلف بلاکس نجی کمپنیوں کو انتہائی سستی قیمتوں پر دیے جس کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 35 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے اسی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کوئلے کی کانوں کے مبینہ گھپلے پر ایوان میں بحث کے لیے تیار ہے۔ لیکن حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس پر بحث بے معنی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔