سینکڑوں پاکستانی ہندو بھارتی شہریت کے اہل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST

راجستھان کے جیسلمیر میں بہت سے پاکستانی ہندو پناہ لیے ہوئے ہیں

بھارت نے ان پاکستانی ہندوں کو شہریت دینے کی کارروائي شروع کر دی ہے جو سات برس کے عرصے سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔

مغربی ریاست راجستھان کے علاقے جودھ پور میں حکام کا کہنا ہے کہ یہاں ایسے نو سو پاکستانی شہری ہیں جو بھارتی شہریت کی درخواست دینے کے اہل ہو گئے ہیں ۔

لیکن شہریت کے لیے اہل یہ افراد اس عمل کے لیے درکار رقم سے پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت نے اس کے لیے جو فیس متعین کی ہے وہ بہت زیادہ ہے اور ان میں بیشتر لوگ اسے ادا کرنے کے لائق نہیں ہیں۔

حکومت نے اس فہرست میں اُن ہندؤں کو شامل کیا ہے جو دسمبر دو ہزار چار سے پہلے بھارت آئے تھے اور پھر واپس نہیں گئے۔

پاکستان سے آئے ہوئے ہندوں کی تنظیم ’سیماننتلوک سنگٹھن‘ کے صدر ہندو سنگھ سوڈھا نے حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ اس میں ’کچھ کمی‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ کہ یہ فہرست بہت چھوٹی ہے، ابھی پانچ چھ ہزار اور لوگ ہیں جو حالیہ برسوں میں یہاں آئے اور جنہوں نے پھر لوٹنے سے انکار کردیا۔ دوسری بات یہ کہ شہریت کے لیے فیس اتنی زیادہ ہے کہ شاید ہی کوئي پاکستانی ہندو اسے ادا کر سکے۔‘

جودھ پور کے ڈپٹی مجسٹریٹ راجندر سنگھ راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ ان لوگوں نے بھارت میں سات برس مکمل کر لیے ہیں اس لیے ان سے کہا گيا ہے کہ وہ شہریت کے لیے اپنی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔

بھارت میں شہریت سے متعلق قانون کے مطابق جو بیرونی افراد سات برس سے ملک میں مقیم ہوں وہ شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ نے ان افراد کے متعلق پولیس اور انٹیلی جنس سے بھی رپورٹ طلب کی ہے۔

"ہم دو ہزار دو میں سندھ سے آئے تھے اور اب لگا کی شہریت ملنے والی ہے لیکن اس کے لیے اتنی بڑي رقم کا انتظام کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ چونکہ ہم تیرا لوگ ہیں اس لیے کئی ہزار روپے ہوئے اور ایک یومیہ اجرت والا شخص اتنی فیس کیسے دے سکتا ہے۔"

رام بھیل

ہندو سنگھ سوڈھا کا کہنا ہے کہ بھارت نے شہریت کے لیے فیس تین ہزار سے بیس ہزار روپے تک کردی ہے۔ اتنی رقم دینے کی کسی بھی ہندو فیملی میں طاقت نہیں ہے کیونکہ اس میں سے بیشتر یا تو دلت ہیں یا پھر قبائلی ہیں ’لیکن ہم اس کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں۔‘

پاکستان کے صوبہ سندھ سے بھارت آنے والے سوڈھا رام بھیل شہریت پانے کی کارروائی سن کر بہت خوش ہوئے لیکن فیس کی رقم سننے پر وہ مایوس ہوگئے۔

رام بھیل کے خاندان میں تیرہ افراد ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم دو ہزار دو میں سندھ سے آئے تھے اور اب لگا کہ شہریت ملنے والی ہے لیکن اس کے لیے اتنی بڑي رقم کا انتظام کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ چونکہ ہم تیرہ لوگ ہیں اس لیے کئی ہزار روپے ہوئے اور ایک یومیہ اجرت والا شخص اتنی فیس کیسے دے سکتا ہے؟‘

بھارت نے دو ہزار پانچ میں تقریباً تیرہ ہزار ایسے پاکستانی ہندوں کو شہریت دی تھی جو مذہبی بنیاد پر امیتیازی سلوک سے تنگ آکر بھارت آئے تھے اور جنہوں نے پھر واپس جانے سے منع کر دیا تھا۔

اس وقت حکومت نے قانون میں تھوڑی نرمی برتی تھی اور شہریت دینے کا اختیار ضلع مجسٹریٹ کو دے دیا تھا اور فیس بھی بہت کم رکھی تھی۔

جودھ پور میں مقیم ان پاکستانی ہندوؤں کا مطالبہ ہے کہ بھارتی حکومت شہریت دینے کے لیے ایک بار پھر اسی نرمی کا مظاہرہ کرے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین تھر ایکسپریس ہر ہفتے پاکستانی ہندوں کو بھارت میں لانے کا اہم ذریعہ ہے۔

پاکستانی حکومت نے ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک ہونے جیسے الزام کو مسترد کیا ہے لیکن بھارت آنے والے بیشتر ہندو یہ ہی وجہ بتا کر کہتے ہیں کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔