’عوام کی صحت سے زیادہ خوبصورتی میں دلچسپی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 11:56 GMT 16:56 PST
نریندر مودی

مودی کے اس بیان سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے

بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کے اس بیان پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے کہ کمسن لڑکیوں میں غذائیت کی کمی یا ’مال نیوٹریشن‘ کی وجہ ان کی صحت میں دلچسپی کم اور خوبصورتی میں زیادہ ہے۔

کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ کمسن بچوں میں غذائیت کی کمی ایک مسئلہ ہے جس کا اس طرح کا مذاق اڑانا درست نہیں ہے۔

وزیراعلی نریندر مودی نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کو دیےگئے انٹرویو میں عوام میں غذائيت کی کمی کے لیے سبزی خوری اور ڈائٹنگ کی عادت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

انہوں نے کہا تھا ’گجرات کم و بیش سبزي خور اور متوسط درجہ کے لوگوں کی ریاست ہے۔ متوسط درجہ کا طبقہ صحت سے زیادہ خوبصورتی میں دلچسپی رکھتا ہے جو ایک چیلنج ہے۔ اگر ایک ماں اپنی بیٹی سے دودھ پینے کو کہتی ہے تو وہ اس پر لڑائی کرتی ہے اور مان سے کہتی ہے کہ دودھ پینے سے وہ موٹی ہوجائےگي‘۔

وال سٹریٹ جنرل کے صحافی نے نریندر مودی سے اس حالیہ رپورٹ کے متعلق وضاحت طلب کی تھی جس میں کہا گيا ہے کہ ریاست گجرات میں پانچ برس کی عمر کے نصف بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد سے مودی پر کئی جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے اور سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ پانچ برس کی کم عمر کی بچیاں اپنے جسم کی خوبصورتی کے تیئں اس قدر حساس کیسے ہوگئیں۔

کانگریس پارٹی کی رہنما اور مرکزي وزیر امبیکا سونی کہا ’نریندور مودی نے جو اپنے آپ کو دنیا کا بہترین منتظم کہتے ہیں اس طرح کا بچگانہ بیان دیا ہے۔ وہ قطعی حساس نہیں ہیں۔ گجرات کی خواتین اپنے بچوں کی پرورش کے لیے بہت محنت کرتی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس لیے نہیں کھاتیں کیونکہ وہ اپنی خوبصورتی برقرار رکھنا چاہتی ہیں‘۔

"گجرات کم و بیش سبزي خور اور متوسط درجہ کے لوگوں کی ریاست ہے۔ متوسط درجہ کا طبقہ صحت سے زیادہ خوبصورتی میں دلچسپی رکھتا ہے جو ایک چیلنج ہے۔ اگر ایک ماں اپنی بیٹی سے دودھ پینے کو کہتی ہے تو وہ اس پر لڑائی کرتی ہے اور مان سے کہتی ہے کہ دودھ پینے سے وہ موٹی ہوجائیگي۔"

وال سٹریٹ جنرل نے مسٹر مودی سے دو ہزار دو کے فسادات سے متعلق بھی سوالات کیے اور پوچھا کیا انہیں ان فسادات کے لیے معذرت نہیں کرنی چاہیے ؟

اس کے جواب میں نریندر مودی نے کہا معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’معافی وہ مانگتا ہے جو غلطی کرتا ہے۔ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے تو قصوروار کو معاف کیوں کیا جائے؟ صرف اس لیے مودی کو معاف کر دیا جائے کیونکہ وہ وزیراعلی ہیں؟ اگر انہوں نے غلطی کی ہو تو انہیں سخت سزا ملنی چاہیے‘۔

فسادات سے متعلق نریندر مودی اس سے پہلے بھی اس طرح کی باتیں کہہ چکے ہیں لیکن گزشتہ روز ہی ایک خصوصی عدالت نے ان کی کابینہ کی ایک قریبی ساتھی کو فسادات کے لیے قصوروار ٹھہرایا ہے۔

مبصر کہتے ہیں کہ مایا کوڈنانی مودی کی بہت قریبی ساتھی ہیں جنہوں نے نروڈا پاٹیا کے مسلمانوں کے قتل عام کے لیے بلوائیوں کی قیادت کی تھی۔ مسٹر مودی اس وقت وزیر داخلہ تھے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انہیں اس بارے میں پتہ نا ہو ؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔