جب انصاف ملنا غیر معمولی قرار پائے۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 09:29 GMT 14:29 PST
گجرات فسادات کی ایک فائل فوٹو

گجرات فسادات کے ابھی کئی معاملات میں فیصلے آنے باقی ہیں

گزشتہ جمعے کو بھارت کی ریاست گجرات میں ایک ذیلی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے اپنے ایک فیصلے سے تاریخ رقم کی۔

بھارت میں مذہبی فسادات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت ان کے جرائم کی مناسبت سے سخت ترین سزائیں دی گئی ہیں۔

بھارت میں دو ہزار دو کے گجرات فسادات تک مذہبی فسادات وقفے وقفے سے ہوا کرتے تھے۔ اکثر فسادات کے پیچھے سیاست کارفرما ہوا کرتی تھی۔ فسادات میں سینکڑوں اور کبھی کبھی ہزاروں بے قصور افراد مارے جاتے اور قاتلوں کو کبھی سزا نہیں ہو تی تھی۔

سنہ انیس سو تراسی میں آسام کے نیلی علاقے میں چند گھنٹوں کے اندر دو ہزار سے زیادہ انسانوں کو ان کا محاصرہ کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس بھیانک قتلِ عام کا ارتکاب کرنے والوں کو کبھی قانون کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی نہیں اس قتلِ عام کے منصوبہ ساز ریاست میں اقتدار میں بھی آئے۔

سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دارالحکومت دلی اور ملک کے کئی شہروں میں سکھوں پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ تقسیم ہند کے وقت کی بربریت کی یاد تازہ ہو گئی۔ ملک کے نئے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سکھوں کے خلاف قتل عام کو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا کہ ’جب بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے‘۔

دلی اور دیگر شہروں میں تین ہزار سے زیادہ سکھوں کو قتل کیا گیا لیکن آج تقریباً تیس برس گزرنے کے بعد بھی عملی طور پر ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔

ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں جنوری سنہ انیس سو ترانوے میں فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے۔ حکومت کے قائم کردہ ایک کمیشن نے قاتلوں کی نشاندہی کی، قصورواروں کا نام لیا اور سازشیں کرنے والوں کے دامن پکڑ لیے لیکن اٹھارہ برس کی جد وجہد کے باوجود ایک بھی مجرم کو سزا نہ مل سکی۔

ان فسادات میں ملک کے انصاف کا پورا نظام بے بس تماشائی بنا رہا۔ قانون و آئین کے سارے ادارے اپنے ہی بنائے ہوئے جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا مذہبی اقلیتوں کے خلاف ریاست دانستہ طور پر تفریق برت رہی ہے؟

مذہبی اقلیتیں یہ سوچنے کے لیے مجبور ہونے لگیں کہ کیا ملک میں ان کے لیے انصاف کے حصول کے سارے راستے بند ہوتے جا رہے ہیں؟

بھارت میں مذہبی فسادات اقلیتوں پر ایک بھیانک مصبیت بن کر نازل ہوتے رہے ہیں۔ ان فسادات میں اقلیتوں کو ہمیشہ زبردست جانی، مالی اور اعصابی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف کا پہلو یہ رہا ہے کہ انہیں فسادات کے بعد کبھی انصاف نہیں مل پاتا۔

گجرات میں جو ہوا تھا وہ صرف نریندر مودی کا خاصہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے کانگریس کے دورحکومت میں اسی احمدآباد میں اس سے بھی زیادہ بھیانک فسادات ہو چکے ہیں۔ مودی سے پہلے تو گجرات میں فسادات سالانہ رسم بنے ہوئے تھے اور ان فسادات میں مودی کے ہی فساد کی طرح کبھی کسی کو سزا نہیں ملتی تھی۔

اسی لیے جب گزشتہ جمعہ کو احمدآباد کی خصوصی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے نروڈا پاٹیہ میں ستاونے مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں ایک با اثر سابق وزیر اور ایک سرکردہ ہندو رہنما سمیت اکتیس افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تو انصاف کا یہ معمول کا عمل پورے ملک کو غیر معمولی لگا ۔

ابھی تین برس پہلے تک انہیں عدالتوں میں ایک ایک کر کے سارے مقدمے کبھی ناکافی ثبوتوں کے سبب تو کبھی گواہوں کے انحراف سےڈھیر ہو رہے تھے لیکن جب سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور اہم مقدمات کی از سر نو تفتیش اور سماعت کرائی تو پھر انہی مقدمات میں مجرموں کو سزائیں ملنے لگیں۔

احمدآباد کی خصوصی عدالت کے تاریخ ساز فیصلے سے یہ سوال بھی منسلک ہے کہ کیا انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔