’مذہبی اداروں پر سرکاری کنٹرول ختم کریں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 10:13 GMT 15:13 PST
علیحدگی پسند رہنما

علیحدگی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندو تنظمیں یاترا کو فرقہ وارانہ جنگجوئیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استمعال کرتے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہندؤں کی امرناتھ یاترا اور مسلم خانقاہوں پر سرکاری کنٹرول کے خلاف علیٰحدگی پسندوں نے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے سنیچر کو اعلان کیا کہ اگر ہندؤں کی امرناتھ یاترا اور مسلمانوں کی خانقاہوں کو مقامی ہندؤں اور مسلمانوں کے سپرد نہ کیا گیا تو ریاست میں عوامی احتجاج کی مہم چلائی جائے گی۔

انہوں نے اس مطالبہ پر عالمی توجہ مبذول کروانے کے لیے چار ستمبر کو احتجاجی ہڑتال کا اعلان کیا۔

سری نگر میں اپنے ہی گھر پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تراسی سالہ رہنما نے کہا ’ہم یاترا کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ ایک سو پینتالیس سال سے ہو رہی ہے، لیکن اب حکومت ہند اور بھارت کی ہندوتوا نواز تنظیمیں اس یاترا کو فرقہ وارانہ لڑائی کے لیے لانچ پیڈ کے طور استعمال کرتے ہیں‘۔

انہوں نے بھارت کے موقر جریدہ فرنٹ لائن میں چھپے مضمون کا حوالہ دے کر کہا کہ سطح سمندر سے ساڑھے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع امرناتھ کے غار کی یاترا میں مذہبی پاکیزگی باقی نہیں رہی ہے، بلکہ اب یہ فرقہ وارانہ جارحیت کا ایک ہتھیار بن چکا ہے۔

انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے اس حکم نامہ کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا، جس میں یاتریوں کی اموات پر تشویش ظاہر کرکے حکومت سے کہا گیا کہ امرناتھ یاترا کے لیے غار تک پختہ سڑک تعمیر کی جائے۔

’اس قدر دشوارگزار یاترا کے لیے جب چھ لاکھ لوگوں کو بلایا جائے تو نوّے لوگوں کی قدرتی موت کوئی حیرانگی نہیں ہے۔ حیرانگی یہ ہے کہ شیش ناگ کا گلیشیئر پگھل رہا ہے اور سڑک کی تعمیر سے جنگلی جانوروں کا مسکن تباہ ہوجائے گا اور ہزاروں سرسبز درخت کاٹے جائیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ گنگوتری کی یاترا کے لیے اترا کھنڈ انتظامیہ نے ایک دن میں ڈیڑھ سو سے زائد یاتریوں پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ کشمیر میں ماحولیات کے حوالے سے حساس جگہ پر ایک دن میں ساڑھے اٹھارہ ہزار لوگوں کو جانے کی کھلی چھوٹ ہے۔

علی گیلانی نے کہا کہ کشمیر میں ایک طرف ہندوؤں کی اس سالانہ یاترا پر گورنر قابض ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کے مذہبی امور میں مقامی حکومت کی مداخلت ہے۔ قابل ذکر ہے امرناتھ یاترا کے لیے گورنر کی سرپرستی میں ’شرائن بورڈ‘ قائم ہے جبکہ مسلمانوں کی مساجد اور خانقاہوں کا انتظام وزیراعلیٰ کی سرپرستی والا وقف بورڑ کرتا ہے۔

انہوں نے ان دونوں اداروں پر سرکاری کنٹرول ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شرائن بورڑ کو یہاں کے کشمیری پنڈتوں (جو کشمیری بولتے ہیں اور شوِ کے پیرو ہیں) کے سپرد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ ہندؤں کی یاترا کے خلاف نہیں ہیں اور سال دو ہزار آٹھ اور دو ہزار دس کے حالات اس کا کھلا ثبوت ہیں۔ ’جب ہمارے بچوں کو فورسز گولیوں سے بھون رہے تھے، ہم لوگ یاتریوں کے لئے لنگر کا اہتمام کرتے تھے۔ یہ ہم کرتے رہیں گے، لیکن یاترا یا اسلامی امور کی سیاست کاری نہیں ہونے دینگے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔