کوئلہ گھپلے پر پارلیمان میں تعطل برقرار

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST
بھارتی پارلیمان

لوک سبھا میں گزشتہ نو روز سے ہنگامہ جاری ہے

بھارت میں کوئلہ کی کانوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ بدانتظامی کے مسئلے پر حزب اختلاف کی جانب سے ہنگامہ کے سبب پارلیمان کا اجلاس لگاتار نویں روز بھی نہیں چل سکا۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے استعفے کے مطالبے پر مصر ہے۔ لیکن حکمراں جماعت اسے پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

پیر کے روز جیسے ہی اجلاس شروع ہوا بی جے پی کے ارکان نے نعرہ بازی شروع کردی اس کے باوجود بعض وزراء نے اپنے بل پیش کیے جنہیں صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گيا۔

لیکن جب ہنگامہ بڑھتا گیا تو سپیکر نے ایوان کی کارروائي ملتوی کر دی۔ مون سون اجلاس کا بیشتر حصہ اسی ہنگامے کی نذر ہو چکا ہے۔

مون سون اجلاس آئندہ جمعہ تک چلنا ہے اور اس حساب سے اب صرف چار روز بچے ہیں اور اس دوران حکومت کو بہت سے بل پیش کرنے تھے۔

حکمراں یو پی اے اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان کوئلے کی کانوں کی الاٹمنٹ کے سوال پر محاذ آرائی جاری ہے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے اس تعطل کو دور کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں سے بات چيت بھی کی گئی لیکن ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں جاری مسلسل تعطل کو ختم کرنے کے ارادے سے حزب اختلاف کی رہنما کو فون کیا تھا لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کانگریس نے ان کے دونوں مطالبات پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔