کشمیر: چھترگل میں جھڑپیں، دو افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 08:23 GMT 13:23 PST

بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما گھروں میں نظر بند ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج کے مابین تین روز سے جاری چھڑپوں میں اب تک دو عسکریت پسند ہلاک جبکہ ایک بھارتی فوجی اہلکار زخمی ہوا ہے۔

پیر کو فوجی ترجمان کرنل ایچ ایس برار نے بی بی سی کو بتایا کہ سرینگر سے پینتالیس کلومیٹر دُور کنگن کے چھترگل جنگلات میں مسلح عسکریت پسندوں کے ایک گروہ نے غاروں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خفیہ اطلاع ملنے پر فوج اور پولیس نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، اور ابھی تک دو شدت پسند مارے گئے۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ ابھی بھی جنگلات میں فائرنگ جاری ہے۔

چھترگل کے رہائشی عرفان احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’ہم لوگ تین روز سے گولیوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔ گاؤں کے عقب میں گھنے جنگلات ہیں۔ فوج نے ہم سے کہا کہ جنگل سے شدت پسندوں کی لاشیں لاؤ، اور ہم ابھی تک دو لاشیں لائے ہیں۔‘

واضح رہے کہ رواں سال کے دوران کشمیر میں مسلح شورش کی سطح بہت زیادہ گھٹ گئی ہے۔ علیحدگی پسندوں کو مظاہرے منظم کرنے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔

اس سال سیاحوں اور ہندو عقیدت مندوں کی بھاری تعداد نے کشمیر کی سیر کی۔ اس صورتحال کو قیام امن سے تعبیر کرتے ہوئے مقامی حکومت کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو جوابدہ بنانے کے لئے وادی میں نافذ سخت فوجی قوانین کو ختم کیا جائے۔

لیکن بھارت کی وزارت دفاع اور بعض فوجی جرنیلوں نے اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نیٹو فوجوں کے انخلا کی تیاری سے کشمیر میں سلامتی کی صورتحال بگڑ سکتی ہے، کیونکہ بقول ان کے طالبان عسکریت پسند افغانستان میں قیام حکومت کے بعد کشمیر کا رُخ کرینگے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔