راج ٹھاکرے کی مذمت، بال ٹھاکرے کی حمایت

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 12:00 GMT 17:00 PST
نیتیش کمار

بہار کے وزیراعلی نیتیش کمار نے راج ٹھاکرے کے بیان پر کانگریس پر بھی نشانہ لگایا۔

بھارت کی ایک علاقائی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کی شمالی ہندوستان کے باشندوں اور بطور خاص بہار کے باشندوں کے خلاف ان کے بیان کی چاروں طرف سے مذمت کی جا رہی ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں بہار کے باشندوں کو درانداز قرار دیکر مہاراشٹر سے نکالنے کی دھمکی دی تھی۔

ریاست بہا ر کے وزیر اعلٰی نتیش کمار نے ان کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’سرپھرا‘ تک قرار دیا ہے۔

نتیش کمار نے صحافیوں سےبات کرتے ہوئے کہا، ’آپ ایک سرپھرے شخص کی بات کر رہے ہیں، جو خبروں میں بنے رہنے کے لیے اس طرح کا بیان دیتا ہے. ایسی گیدڑ بھپکیوں سے بہار میں کوئی ڈرنے والا نہیں ہے. ان لوگوں کی عادت ہے. چار لوگوں کو پیٹ کر ویڈیو بناتا ہے اور میڈیا والے کو بتا کر اس کی خوب تشہیر کرواتا ہے.‘

برسراقتدارجماعت کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے انھوں نے مزید کہا: ’ایسے عناصر سے جو حکومت نہیں نبٹ سکتی ہے، وہ دہشت گردی سے کیا نبٹےگي۔‘

بالآخر کانگریس پارٹی نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے راج ٹھاکرے کے معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میڈیا ایسے ہر شخص کا بائیکاٹ کرے جو اپنی بات چیت میں جذبات برانگیختہ کرنے والی اور اشتعال انگیز باتیں کرتا ہو. ایسے لوگ اس طرح کی باتیں اس لیے کرتے ہیں کیونکہ میڈیا ان باتوں کو کوریج دیتا ہے.‘

راج ٹھاکرے

راج ٹھاکرے اپنے متنازعہ فیہ بیان کے لیے جانے جاتے ہیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی راج ٹھاکرے کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے. سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے کہا ہے کہ راج ٹھاکرے کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے.

اسی دوران ٹی وی نیوز چینلز کے ایڈیٹرز کی اعلٰی ترین تنظیم برڈكاسٹ ایڈیٹرز ایسوسی ایشن یعنی بی ای اے نے ہندی نیوز چینلوں کے خلاف ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے کے بیان پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے.

ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بی ای اے کے جنرل سیکریٹری این كے سنگھ اور صدر شازی زماں نے کہا کہ ٹھاکرے کا بیان نہ صرف میڈیا بلکہ جمہوریت کی جڑوں پر حملہ ہے۔

آج پیر کی صبح شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے اپنے بھتیجے اور ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے کی حمایت کر تے ہوئے پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں لکھا ہے کہ وہ حقیقی مراٹھی ہیں اور کبھی بہار نہیں گئے ہیں.

شیو سینا سربراہ نے کانگریس جنرل سیکریٹری دگ وجے سنگھ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں مفت میں ناچنے والا رقاص قرار دیا ہے.

یہ معاملہ ممبئی پولیس کے چند اہلکاروں کے ذریعہ بہار پولیس کو بغیر مطلع کیے بہار سے ایک نوجوان کو اٹھا لینے کے بعد شروع ہوا تھا۔

بہار کے چیف سیکریٹری نے ممبئی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر ریاست بہار کے اس نوجوان کی گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

اس نوجوان پر گیارہ اگست کو ممبئی کے آزاد میدان میں ہونے والے مظاہرے کے دوران یادگار شہدا کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔