بھارت اور چین فوجی مشقیں بحال کرنے پر متفق

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 08:25 GMT 13:25 PST
جنرل لیانگ گوانگلی

چینی وزیر دفاع نے اپنے بھارتی ہم منصب سے دلی میں بات چیت کی ہے

بھارت اور چین نے دو سال کے وقفے کے بعد باہمی فوجی مشقیں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اعلان بھارت کے وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے اپنے چینی ہم منصب جنرل لیانگ ژونگلی سے مذاکرات کے بعد کیا۔

چین کے وزیر دفاع ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ بھارت کے پانچ روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔

لیکن بات چیت کے بعد بھارتی وزیر دفاع نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا کہ آیا بھارت کی سرحد کے نزدیک چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھارتی تشویش سے جنرل لیانگ کو آگاہ کیا گیا یا نہیں۔

مسٹرانٹنی نے کہا کہ ’ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ سرحدی علاقوں سمیت تمام شعبوں میں کس طرح باہمی رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔‘

بھارت کی سرحد کے نزدیک چین نے گزشتہ کچھ عرصے سے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جس پر بھارت میں فوج سمیت کچھ حلقوں کو کافی تشویش ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان شمال مشرق سمیت ملک کے کئی حصوں میں سرحد کے تعین پر پرانا تنازع ہے اور اکثر چین کی جانب سے بھارتی علاقے میں مبینہ دراندازی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

"ہم نے دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت اعلی سطح کے وفود ایک ووسرے کےممالک کا دورہ کریں گے اور نوجوان افسران کو ایک ووسرے کے ملک میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔"

اے کے اینٹنی

جنرل لیانگ نے مسٹر اینٹونی کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔

اے کے اینٹونی نے کہا کہ وہ آئندہ برس کسی وقت چین کا دورہ کریں گے۔

جنرل لیانگ نے کہا کہ بات چیت کے دوران سٹریٹیجک شراکت کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم معاملات پر اتفاق ہوا۔

’ہم نے دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت اعلیٰ سطح کے وفود ایک ووسرے کےممالک کا دورہ کریں گے اور نوجوان افسران کو ایک ووسرے کے ملک میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔‘

یہ آٹھ برس میں پہلی مرتبہ ہے کہ چین کے وزیر دفاع بھارت کے دورے پر آئے ہیں۔ مسٹر اینٹونی سے ملاقات کے بعد جنرل لیانگ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چئرمین ائر چیف مارشل این اے کے براؤن سے بات چیت کریں گے اور پھر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملنے جائیں گے۔

دونوں ملکوں نے مشترکہ فوجی مشقیں دو ہزار سات میں شروع کی تھیں لیکن دفاعی تعلقات میں کشیدگی کے بعد انہیں دو ہزار دس میں معطل کردیا گیا تھا۔

چین نے سن دو ہزار دس میں شمال میں فوج کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس جسوال کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ چین کشمیر کے کئی علاقوں پر بھی اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے بعد بھارت نے باہمی دفاعی روابط معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے لیکن پندرہ دور کے مذاکرات کے باوجود سرحد کے تعین پر تنازعے کو حل کرنے کی راہ میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔