کشمیر: امرناتھ یاترا پر پھر تنازع

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST
یاتری

امرناتھ کی یاترا کے لیے اب لاکھوں ہندو کشمیر جاتے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام جنوبی کشمیر میں ہندوؤں کے بھگوان شِیو سے منسوب ’امرناتھ غار‘ کی سالانہ یاترا کے حوالے سے ایک بار پھر علیٰحدگی پسندوں نے احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔

اس سلسلے میں منگل کے روز کشمیر میں احتجاجاً ہڑتال رہی۔ گو کہ علیٰحدگی پسند اس یاترا کی کھل کر مخالفت نہیں کرتے، لیکن کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت ہند ایک غار کی سالانہ یاترا کو مذہبی جارحیت میں تبدیل کررہی ہے۔

منگل کے روز ایک بیان میں سید علی گیلانی نے اس مبینہ جارحیت کے خلاف عوامی سطح پر بیداری مہم چلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر حکومت قانونی طور پر یاتریوں کی تعداد اور یاترا کے دورانیے کو محدود کرنے میں ناکام رہی تو اس کے خلاف ریاست گیر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اُنیس سو اٹھاسی میں اس غار کی یاترا کے لیے سو سے بھی کم سادھو آتے تھے جو چند روز میں غار کے درشن کرکے واپس جاتے تھے، لیکن پچھلے بائیس سال کے دوران یہ یاترا کشمیر کی سب سے بڑی عوامی سرگرمی کے طور اُبھری ہے۔

اس سال بھارت کی مختلف ریاستوں سے آئے ساڑھے چھ لاکھ ہندوؤں نے امرناتھ غار میں بھگوان شِیو کے جسمانی عضو سے منسوب برف کی اُس سِل کے درشن کیے جسے ’شیولنگ‘ کہتے ہیں۔

اس کے علاوہ پانچ ماہ کےسیاحتی سیزن میں دس لاکھ سے زائد سیاح کشمیر آئے جن میں غیرملکیوں کی تعداد صرف چوبیس ہزار تھی۔

سید گیلانی نے ہڑتال کے لیے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’ہم ہندوؤں یا ان کے مقدس تہواروں کے خلاف نہیں ہیں۔لیکن امرناتھ یاترا کے لیے لامحدود عوامی ہجوم کو بھارت بھر سے یہاں لانے کا مقصد کشمیریوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ ہم ہر اس حربے کا مقابلہ کریں گے جس کا مقصد یہاں قائم فوجی قبضے کو دوام بخشنا ہو۔‘

"ہم ہندوؤں یا ان کے مقدس تہواروں کے خلاف نہیں ہیں۔ لیکن امرناتھ یاترا کے لیے لامحدود عوامی ہجوم کو بھارت بھر سے یہاں لانے کا مقصد کشمیریوں کو خوف زدہ کرنا ہے۔ ہم ہر اس حربے کا مقابلہ کریں گے جس کا مقصد یہاں قائم فوجی قبضہ کو دوام بخشنا ہو۔"

سید علی گیلانی

حالیہ دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ نے مقامی حکومت کو ہدایات دی تھیں کہ وہ ساڑھے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع امرناتھ غار تک پختہ شاہراہ تعمیر کرائے۔ یہ حکم نامہ سخت سردی اور بیماریوں کی وجہ سے نوّے یاتریوں کی موت کے بعد جاری کیا گیا۔

اس حکم نامے پر یہاں کی سول سوسائٹی نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سینٹرل یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں: ’انسانی اموات پر جمہوری اداروں کا فکرمند ہونا اچھی بات ہے۔ لیکن یاتری یا تو سڑک کے حادثوں میں مارے گئے یا ان کی موت اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی۔ اس کا علاج سڑک بنانا نہیں ہے۔‘

عوامی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس سڑک کی تعمیر سے امرناتھ یاترا سیاسی اور فوجی عزائم کی تکمیل کا ’لانچ پیڈ‘ بن جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ دو ہزار آٹھ میں جب گورنر کی سربراہی والے شرائن بورڈ نے بال تل میں آٹھ سو کنال اراضی پر قبضہ کیا، تو وادی میں علیٰحدگی پسندوں نے مظاہروں کی کال دی۔ اس کال کے ردعمل میں تین ماہ تک کشمیر بند رہا اور پولیس کارروائیوں میں ساٹھ لوگ مارے گئے۔

سیّد علی گیلانی نے کہا ہے کہ اس یاترا کے لیے لاکھوں ہندوستانیوں کو سرکاری طور مدعو کرنے کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’دُنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیر تو پورے ہندوستان کے لیے ایک مذہبی مقام ہے، اس کو الگ کیسے کیا جاسکتا ہے۔‘

گیلانی نے اس یاترا کے لیے لاکھوں لوگوں کی آمد کو ماحولیات کے لیے بھی خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کے خلاف عالمی تنظیموں کی مشاورت سے مختلف مقامات پر سیمیناروں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔